کی گئی، زمین واپس لینا چاہئے: بی جے پی لیڈر
ایودھیا (اتر پردیش): بی جے پی کے ایک لیڈر نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھا ہے جس میں ان سے ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لیے مختص زمین واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کام کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں اس جگہ پر ایک مندر کی تعمیر کے لیے راستہ صاف کردیا گیا جہاں 16ویں صدی کی بابری مسجد ہوا کرتی تھی۔ اسی حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کرے۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ نے بعد میں ضلع کے دھنی پور علاقے میں حکومت کی طرف سے مختص پانچ ایکڑ اراضی پر ایک نئی مسجد کی تعمیر کے لیے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن تشکیل دی۔ بی جے پی لیڈر رجنیش سنگھ نے 10 دسمبر کو وزیر اعلیٰ کو لکھے اپنے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے مسلم کمیونٹی کی طرف سے مسجد کی تعمیر کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کا مقصد وہاں کبھی مسجد بنانا نہیں رہا بلکہ مسجد کے بہانے اختلاف کو برقرار رکھنا تھا۔ رجنیش سنگھ نے آدتیہ ناتھ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ایودھیا میں سنی سنٹرل وقف بورڈ کو الاٹ کی گئی زمین کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، مسلم کمیونٹی کا مقصد کبھی بھی مسجد نہیں بنانا تھا بلکہ مسجد کی آڑ میں بدامنی اور انتشار برقرار رکھنا تھا۔