فلسطینی نژاد امریکی ڈیموکریٹ راشدہ حربی طلیب نے اپنے ریپبلکن حریف کو شکست دے کر مشی گن میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
واشنگٹن: مصری نژاد امریکی سرجن ایڈم حماوی نے نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کا انتخابی مقابلہ جیت لیا ہے۔ وہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں اس ریاست کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان اور عرب نژاد امریکی بن گئے ہیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے حماوی نے منگل، 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار گریگ میلی کو شکست دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے ان کی کامیابی کا اعلان کیا؛ نتائج کے مطابق انہوں نے 74.1 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف گریگ میلی کو 23.9 فیصد ووٹ ملے۔
57 سالہ حماوی نے غزہ میں اپنے انسانی ہمدردی کے کاموں کی بدولت قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ انہوں نے وہاں اسرائیلی جارحیت کے دوران بطور ’ٹروما سرجن‘ (زخمیوں کے سرجن) رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ وہ 2024 اور 2025 میں ’فلسطینی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘ کے زیر اہتمام اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے طبی مشن کے تحت غزہ گئے تھے۔
مصر میں پیدا ہونے والے ایڈم حماوی بچپن ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ نیو جرسی منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے رٹگرز یونیورسٹی اور اس کے میڈیکل اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اسی ادارے سے ایم بی اے کی ڈگری بھی لی۔ بعد ازاں، انہوں نے پرنسٹن میں پلاسٹک سرجری کا نجی کلینک قائم کیا۔
سیاست میں آنے سے قبل، حماوی نے امریکی فوج میں بطور سرجن آٹھ سال خدمات انجام دیں۔ اس دوران، عراق جنگ کے وقت وہ نو ماہ تک بغداد میں بھی تعینات رہے۔ سن 2004 میں جب ایک ساتھی فوجی، ٹیمی ڈک ورتھ (جو اب امریکی سینیٹر ہیں) کا ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا تھا، تو ان کی جان بچانے میں ایڈم حماوی کا اہم کردار رہا۔
ان کی انسانی ہمدردی پر مبنی طبی خدمات کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں تھا۔ ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق، انہوں نے شام، لبنان، سوڈان، اردن، ترکی، بوسنیا، ہیٹی، بیلیز اور کولمبیا میں بھی رضاکارانہ طور پر کام کیا ہے۔
ایڈم حماوی نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور وہ ان ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بھی مخالف ہیں جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر بھی تنقید کی اور مئی میں ’نیو جرسی مانیٹر‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسے “غیر قانونی اور غیر اخلاقی” قرار دیا۔
ملکی معاملات پر، ان کی انتخابی مہم کی توجہ صحت کی دیکھ بھال تک رسائی بڑھانے، رہن سہن کے اخراجات کم کرنے، سرکاری اسکولوں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کرنے اور سستی رہائش میں سرمایہ کاری کرنے پر مرکوز رہی۔ انہوں نے امیگریشن اصلاحات کی بھی حمایت کی، جس میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے لیے شہریت حاصل کرنے کا راستہ ہموار کرنا بھی شامل ہے۔
حماوی، ڈیموکریٹ بونی واٹسن کولمین کی جگہ لیں گے، جو 2015 سے نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ کولمین، جو کانگریس میں ریاست کی نمائندگی کرنے کے لیے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، نے نومبر 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ دوبارہ انتخاب میں حصہ نہیں لیں گی۔
حماوی کی جیت نیو جرسی کی عرب نژاد امریکی برادری کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے؛ ’عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اس برادری کی تعداد تقریباً 179,000 ہے۔ وہ جارج ہیلمی کے بعد کانگریس میں خدمات انجام دینے والے دوسرے مصری نژاد امریکی بنیں گے؛ جارج ہیلمی کو باب مینینڈیز کے استعفے کے بعد 2024 میں امریکی سینیٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔
فلسطینی نژاد امریکی راشدہ طلیب نے امریکی کانگریس میں اپنی پانچویں مدت جیت لی
دریں اثنا، فلسطینی نژاد امریکی ڈیموکریٹ راشدہ طلیب نے مشی گن کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں ریپبلکن جیمز ڈی ہوپر کو شکست دے کر امریکی ایوانِ نمائندگان میں اپنی پانچویں مدت جیت لی ہے۔
اے پی اور این بی سی نے اس انتخابی مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا، جس کے مطابق راشدہ طلیب نے 83 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ جیمز ڈی ہوپر کو 15 فیصد ووٹ ملے۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے جب اندازاً 10 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی تھی۔
راشدہ طلیب نے الہان عمر کے ساتھ مل کر 2018 میں اس وقت تاریخ رقم کی تھی جب وہ کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دو مسلمان خواتین میں شامل تھیں۔ وہ فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت کرنے اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔
