رکن اسمبلی نامپلی کا عابڈز پولیس اسٹیشن پر دھرنا ۔ تحقیقاتی حکام پر سیاسی دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے
حیدرآباد : /24 مئی (سیاست نیوز) سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کے قتل کیس پر اب سیاست شروع ہوگئی ہے ۔ حالانکہ سٹی پولیس کی جانب سے اس کیس کی تحقیقات شفافیت سے کی جا رہی ہیں لیکن اتوار کو سیاسی مداخلت اور کیس پر اثر انداز ہونے بعض سیاسی قائدین سرگرم ہوگئے ہیں جس سے یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ کیس کی تحقیقات اس سے متاثر ہوسکتی ہے ۔ اتوار کی شب اے سی پی عابڈس کے دفتر پر مجلس کے نامپلی رکن اسمبلی ماجد حسین اور ان کے حامیوں نے عابڈس پہنچ کر پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کیس میں تحقیقات کیلئے پولیس اسٹیشن طلب کئے گئے محبوب عالم خان اور مجاہد عالم خان کی فوری گرفتاری عمل میں لائے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ایم پی حیدرآباد اسدالدین اویسی نے پولیس حکام سے فون پر ربط پیدا کرکے دونوں کو پولیس دفتر میں وی آئی پی سلوک اور گرفتاری کا اعلان نہ کرنے پر برہمی ظاہر کی ۔ اتنا ہی نہیں تحقیقاتی عہدیداروں پر اعلی پولیس حکام اور ریاستی پولیس سربراہ سے بھی مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ حالانکہ قتل کیس کے تحقیقاتی عہدیدار شواہد کی بنیاد پر اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ لیکن سیاسی مداخلت سے وہ الجھن کا شکار ہورہے ہیں اور تحقیقات میں دشواریوں کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پولیس سربراہ اور ایم پی حیدرآباد جو قریبی دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں قتل کیس میں تحقیقاتی عہدیداروں پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی اطلاع ہے تاکہ ایف آئی آر میں درج ناموں پر فوری کارروائی کی جائے اور ان کی گرفتاری کا اعلان کیا جائے جبکہ کلیدی ملزمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور ان کی تفتیش جاری ہے ۔