ایک خاندان کے تمام افراد اب ایک ہی پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈالیں گے

,

   

الیکشن کمیشن کے احکامات، پولنگ بوتھس ریشنلائزیشن کا کام جنگی خطوط پر جاری
تاحال 2.62 کروڑ سے زائد فارمس کا ڈیجیٹلائزیشن مکمل، SIR کا عمل مکمل ہونے صرف 4 دن باقی
حیدرآباد۔ 5 اگست (سیاست نیوز) سنٹرل الیکشن کمیشن کے احکامات کے بعد تلنگانہ الیکشن کمیشن نے ووٹرس لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے تحت ریاست بھر میں پولنگ اسٹیشن کو معقول اور منظم (Rationalization) کا کام جنگی خطوط پر شروع کردیا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر سدرشنریڈی کی جانب سے تمام فیلڈ آفیسرس کو 10 اگست تک یہ کارروائی مکمل کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹر کی تعداد 1200 سے زیادہ نہ ہو اور رائے دہی کے دن شہریوں کو لمبی قطاروں اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عہدیداروں کے مطابق کئی مقامات پر ایک ہی گھر اور خاندان کے اراکین کے نام مختلف پولنگ بوتھس پر درج ہیں جس سے ووٹنگ کا تناسب متاثر ہوتا ہے۔ تشکیل نو کے تحت ایک ہی گھر کے تمام ووٹرس کو ایک ہی پولنگ سنٹر پر منتقل کردیا جائے گا۔ تمام ووٹرس کو ان کے گھر سے 2 کیلو میٹر کے دائرے کے اندر ہی پولنگ اسٹیشن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ریاست میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی (SIR) سروے کے تحت 77.66 فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ریاست کے جملہ 3,38,26,448 کروڑ ووٹرس میں سے 2,62,70,539 ووٹرس کے دستاویزات آن لائن درج کئے جاچکے ہیں۔ ماباقی دستاویزات کی اپ لوڈنگ کے لئے صرف 4 دن کا وقت باقی ہے اور حکام کو توقع ہے کہ اس مدت میں ڈیجٹلائزیشن 80 فیصد سے زائد ہو جائے گی۔ متوفی مستقل طور پر منتقل ہونے والے اور پتے کی عدم دستیابی والے ناموں کو حذف کیا جارہا ہے۔ ریاست میں اس وقت جملہ 35,985 پولنگ اسٹیشنس ہیں جن میں شہری علاقوں میں 14,750 اور دیہی علاقوں میں 21,235 ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں تقریباً 9000 پولنگ اسٹیشنس ہیں۔ جن میں نصف سے زیادہ بوتھس پر ووٹرس کی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔ کثیر منزلہ عمارتوں اور گیٹیڈ کمیونٹیز کے لئے اب مقامی سوسائٹی ہالس اور پرائیویٹ کمیونٹی ہالس کو استعمال کرتے ہوئے کامپلکس کے اندر ہی 1200 سے کم ووٹرس کے لئے بھی الگ بوتھ قائم کیا جائے گا۔ دیہی علاقوں میں جہاں 300 سے 500 ووٹرس کے لئے بوتھس تھے وہاں فاصلے اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے فی مرکز 800 سے 1200 ووٹرس کی حد مقرر کی جارہی ہے۔ سب سے بڑی راحت ریاست کے قبائیلی علاقوں کے لئے سامنے آئی ہے مننور، بھدراچلم، ایٹو نگارام اور اٹنور (ITDA) کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں مقامی پولنگ مراکز کی عدم موجودگی کی وجہ سے چنیچو اور دیگر قبائیلی عوام کو ووٹ ڈالنے کے لئے 5 سے 6 کیلو میٹر پیدل پہاڑیوں کو عبور کرکے جانا پڑتا تھا۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس ریشنلائزیشن کے ذریعہ قبائیلی بستیوں کے قریبی علاقوں میں ہی نئے پولنگ مراکز قائم کئے جائیں گے تاکہ انہیں لمبا سفر نہ کرنا پڑے۔ 2؍F