ایگزٹ پول: بنگال میں سخت مسابقت، آسام میں بی جے پی اقتدار کی برقراری

,

   

تمل ناڈو میں دوبارہ ڈی ایم کے آگے ، کیرالا میں کانگریس اقتدار کی واپسی ۔ مغربی بنگال میں ریکارڈ 92.47 فیصد ووٹنگ۔ 4 مئی کو نتائج

نئی دہلی ؍ کولکاتا، 29 اپریل (ایجنسیز) ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی پولنگ آج مکمل ہوتے ہی ایگزٹ پول سامنے آگئے ہیں۔ مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری کے اسمبلی الیکشن پر ’پول آف پولز‘ کے اعداد و شمار نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بنگال میں جہاں ممتا بنرجی زیرقیادت ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہیں آسام میں کمل (بی جے پی کا انتخابی نشان) دوبارہ کھلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جنوب میں سی پی آئی (ایم) کی ایل ڈی ایف حکومت کو کیرالا میں شکست کے ساتھ کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف کی اقتدار میں واپسی نظر آرہی ہے۔ تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن کی ڈی ایم کے پارٹی کا اقتدار برقرار رہنے کے اشارے مل رہے ہیں جبکہ فلم اسٹار وجئے کی نئی پارٹی کو قابل لحاظ نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مغربی بنگال کی 294 نشستوں پر اس بار مقابلہ انتہائی دلچسپ ہو گیا ہے۔ پرجا پولز اور پی ایم آر کیو جیسے سروے بی جے پی کو اکثریت کے جادوئی ہندسہ (148) سے اوپر لے جاتے دکھا رہے ہیں۔ پرجا پولز کے مطابق بی جے پی کو 178 سے 208 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ ٹی ایم سی 85 سے 110 پر سمٹ سکتی ہے۔ تاہم پیپلز پلس کا سروے ٹی ایم سی کو 117 سے 187 نشستوں کے ساتھ مقابلے میں برقرار دکھا رہا ہے۔ چانکیہ اسٹریٹجیز اور ماتریزے کے اعداد و شمار میں بھی بی جے پی کو برتری دکھائی دے رہی ہے۔ قبل ازیں مغربی بنگال اسمبلی کیلئے دو مرحلوں میں مکمل ہونے والے انتخاب میں آزادی کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ 92.47 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے، جو جمہوری عمل میں عوامی دلچسپی اور شرکت کا ایک غیر معمولی مظہر مانا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آج دوسرے اور آخری مرحلے میں شام 7:45 بجے تک 91.66 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جب کہ پہلے مرحلے میں 93.19 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس طرح دونوں مرحلوں کو ملا کر مجموعی ووٹنگ کا تناسب ایک نئے ریکارڈ تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل ریاست میں سب سے زیادہ ووٹنگ 2011 کے اسمبلی الیکشن میں 84.72 فیصد درج کی گئی تھی، جسے اس بار نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس الیکشن کی اہم خصوصیت خواتین ووٹروں کی غیرمعمولی شرکت رہی، جنہوں نے مرد ووٹروں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ مجموعی طور پر 93.24 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے، جب کہ مرد ووٹروں کا تناسب 91.74 فیصد رہا۔ ریاست میں جملہ ووٹروں کی تعداد تقریباً 6.81 کروڑ بتائی گئی ہے۔ سب سے کم پولنگ کولکاتا (ساؤتھ) کے انتخابی ضلع میں 87.25 فیصد درج کی گئی، جو دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ضرور ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ بھی مضبوط شرکت کی نشاندہی کرتی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران چند مقامات پر چھٹ پٹ جھڑپوں اور تشدد کی خبریں سامنے آئیں، تاہم حکام کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔ پہلے مرحلے میں 152 اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی، جب کہ دوسرے مرحلے میں باقی 142 حلقوں کیلئے پولنگ کرائی گئی۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا 4 مئی کو دیگر ریاستوں کے ساتھ اعلان کیا جائے گا۔