بائیڈن انتظامیہ کی مخالفتجنرل لی شانگ فو چین کے وزیر دفاع مقرر

   

بیجنگ:چین نے جو بائیڈن انتظامیہ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے جنرل کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے، جس پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ میڈیا کے مطابق، ملک کی مقننہ نے متفقہ طور پر پیپلز لبریشن آرمی کی جدید کاری مہم کے ایک تجربہ کار جنرل لی شانگ فو کی ملک کے نئے وزیر دفاع کے طور پر تقرری کی توثیق کر دی ہے۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے کہا کہ لی شانگ فو کو ان کے ماضی کے کاموں کے پیش نظر واشنگٹن قریب سے دیکھے گا، حالانکہ یہ عہدہ بڑی حد تک سفارتی اور رسمی سمجھا جاتا ہے، 2018 میں، سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روسی ہتھیاروں کی خریداری کے الزام میں لی شانگ فو اور چین کے آلات کی ترقی کے محکمے پر پابندی لگا دی تھی۔لی شانگ فو کی تقرری کی تصدیق اتوار کو چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس کے دوران کی گئی۔ دیگر سینئر تقرریوں میں چار نئے نائب وزیر اعظم شامل ہیں، جن کے نام ڈنگ جوشیانگ، ہی لیفنگ، ڑانگ گوکنگ اور لیو گوزونگ ہیں۔ نئے پریمیئر کی طرف سے ان کی نامزدگی کے بعد، چاروں ریاستی کونسل میں نائب پریمیئر کے طور پر کام کریں گے، تین سال کی سخت صفر۔کووڈ پابندیوں کے بعد چین کی معیشت کو بحال کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔لی شانگ فو کی بطور وزیر دفاع تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ دفاعی ماہرین نے کہا کہ چین کے سیٹلائٹ پروگرام پر بطور ٹیکنوکریٹ اور ایرو اسپیس انجینئر کے طور پر کام کرنے والے لی شانگ فو کا تجربہ ان کے نئے کردار میں کلیدی رول ادا کرے گا۔