بائیڈن کا آخری مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

   

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو اقوامِ متحدہ کی ایک تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کی میراث پر خوشگوار امیدوں کے ساتھ بات کی جسے بدستور چیلنجز درپیش ہیں مثلاً یوکرین کی طرف سے روسی حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی کوششیں مشرق وسطیٰ جنگ۔دفتر میں بائیڈن کے چار ماہ باقی رہ گئے ہیں تو وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کیلئے سبز ماربل سے بنے شہ نشین کی طرف ایسے حالات میں قدم بڑھائے کہ دونوں خطوں میں جنگوں سے پیداشدہ مسائل ان کی صدارت کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔غزہ میں جنگ بندی نافذ کرنے کی کوششوں میں ناکامی اور اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے مابن سرحد پار جنگ چھڑ جانے کے بعد پینٹگان نے پیر کو کہا کہ وہ بہت زیادہ احتیاط کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجیوں کی ایک مختصر تعداد بھیجے گا۔فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے لے کر جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے اور اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے اور غزہ پر اسرائیلی حملے تک بائیڈن کی دورِ صدارت میں خارجہ پالیسی کے بڑے چیلنجز کا غلبہ رہا ہے۔مدِ مقابل چین اور ایران جو حماس اور حزب اللہ دونوں کی پشت پناہی کرتے ہیں، پر صدر کے وقت کا بڑا حصہ صرف ہوا ہے۔انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ بائیڈن کی مقامی وقت صبح 10 بجے کی تقریر سے انہیں اس بارے میں بات کرنے کا موقع ملا جسے وہ اپنے دفتر میں اپنے وقت کی اہم کامیابیاں سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ عالمی برادری یوکرین کی حمایت کرے اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی حل کی ضرورت ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرن جین-پیئر نے نیویارک جانے والی ایئر فورس ون کی پرواز پر صحافیوں کو بتایا، بائیڈن اپنے اس نظرئییکا خاکہ پیش کریں گے کہ دنیا کو ان بڑے مسائل کو حل کرنے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر جیسے بنیادی اصولوں کا دفاع کرنے کے لیے کس طرح یکجا ہونا چاہیے۔بائیڈن جمعرات کو واشنگٹن میں ملاقات کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے نئے یوکرینی امن منصوبہ کے بارے میں بات کرنے والے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ یہ منصوبہ شاید گذشتہ منصوبوں کی طرح ہے جس میں یوکرین کی لڑائی کے لیے مزید ہتھیاروں اور مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔