مسجد کے اندرونی حصہ کے سروے سے متعلق وارانسی عدالت کا فیصلہ قانون کی خلاف ورزی ، رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کا ردعمل
حیدرآباد۔13مئی(سیاست نیوز) گیان واپی مسجد معاملہ میں وارانسی عدالت کا فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون Places of worship Act 1991 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد وصدرکل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے وارانسی عدالت کی جانب سے گیان واپی مسجد کے اندرونی حصہ میں ویڈیوگرافی اور سروے کی ہدایت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم بابری مسجد سے محروم ہوچکے ہیں اور اب گیان واپی سے محروم نہیں ہوں گے‘‘۔ وارنسی عدالت کی جانب سے ایڈوکیٹ کمشنر کے تقرر اور 17 مئی تک سروے مکمل کرنے کی ہدایت دیئے جانے پر اسد الدین اویسی نے کہا کہ 1948میں جس طرح مورتیوں کو رکھا گیا تھااسی طرح کی یہ سازش ہے۔ انہوں نے 1991میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے گیان واپی مسجد معاملہ میں جوں کا توں موقف رکھنے کے احکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وارانسی عدالت کا جو فیصلہ ہے وہ صریح خلاف ورزی ہے۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ جس طرح سے بابری مسجد کو شہید کرنے کی سازش کی گئی تھی اسی طرح سے گیان واپی مسجد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہو ںنے مسجد کمیٹی کے ذمہ داروں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں سے کہا کہ وہ وارانسی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اس بات کو پیش کریں کہ عبادت گاہوں کے قانون1991 کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے پارلیمانی ایکٹ کے خلاف احکام جاری کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا مقصد کیا رہ جائے گا اگر اس طرح کے احکام جاری کئے جاتے ہیں !انہوں نے امید ظاہر کی کہ گیان واپی مسجد کی کمیٹی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی تعطیلات کے آغاز سے قبل پارلیمانی ایکٹ اور عدالت کے فیصلہ کے خلاف جاری کئے گئے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منظورہ مذہبی عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کے متعلق جسٹس چندر چوڈنے لکھا ہے کہ اس ایکٹ کا تعلق ملک کے بنیادی سیکولر ڈھانچہ سے ہے لیکن اس کے باوجود اس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ صدر مجلس نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں بے چینی پیدا کرتے ہوئے ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی ایسا نہیں کر رہی ہے تو یوگی اور مودی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کاروائی کریں۔م