بالود میں غیر قانونی دعائیہ اجتماع پر پولیس کی کارروائی

   

45 افراد پولیس اسٹیشن لایا گیا ، 5پادری زیرحراست
بالود، 7 ستمبر (یو این آئی) چھتیس گڑھ کے ضلع بالود کے گوندرڈیہی قصبے کے چین گنج وارڈ میں ایک گھر میں منعقد ہونے والی غیر قانونی دعائیہ اجتماع کے خلاف اتوار کی صبح پولیس نے بڑی کارروائی کی۔اس دوران 40 سے 45 مرد و خواتین کو پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ زیادہ تر لوگ درگ ضلع کے ہیں۔ پانچ پادریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے پولیس کو تحریری شکایت دی تھی کہ عیسائی پادری چین گنج علاقے میں غیر قانونی دعائیہ اجتماعات منعقد کر رہے ہیں اور لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے آمادہ کر رہے ہیں۔ شکایت پر گوندرڈیہی پولیس نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا اور دعائی اجلاس میں شامل لوگوں کو پولیس اسٹیشن لے آئی۔وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کا الزام ہے کہ مشنری تنظیمیں معصوم ہندوؤں کو لالچ دے کر مذہب تبدیل کر رہی ہیں۔ کئی مقامات پر گھروں کو گرجا گھروں میں تبدیل کرکے مذہبی سرگرمیاں کی جارہی ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مہود بی گاؤں کے ایک گھر کی دیوار پر چرچ کا نام لکھا ہوا ملا۔فی الحال پولس معاملے کی تفصیل سے تفتیش کررہی ہے ۔