معتمرین و عازمین کے لیے سافٹ ویر انجینئر یعسوب ہاشمی کا پراڈکٹ ، سیاست سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 8 اپریل ۔ ( سیاست نیوز) دنیا بھر سے ہر سال کروڑوں کی تعداد میں معتمرین اور عازمین عمرہ و حج کی ادائیگی اور پیارے نبی ﷺ کے روضہ مبارک پر حاضری ، مسجد نبوی ﷺ میں نمازوں کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کا دورہ کرتے ہیں۔ معتمرین و عازمین حج مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے بطور احترام احرام خریدتے ہیں ۔ احرام کے بھی آداب ہوتے ہیں اور حالت احرام میں ہمیں کافی احتیاط برتنی پڑتی ہے ۔ چونکہ عرب ممالک خاص طورپر سعودی عرب میں شدید گرمی ہوتی ہے اور درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہوجاتا ہے ایسے میں معتمرین و عازمین حج کیلئے ایسا احرام ضروری ہوتا ہے جس میں گرمی کے باوجود ٹھنڈک کا احساس ہو اور جو رطوبت جذب کرے ۔ احرام مختلف قسم کے FABRIC سے تیار کیا جاتا ہے لیکن معتمرین و عازمین کی سہولت کیلئے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویر انجینئر یعسوب ہاشمی Yasoob Hashmi اور اُن کی اہلیہ زرقہ ہاشمی زہرہ نے بمبو یا بانس سے تیار کپڑے کے احرام مارکٹ میں متعارف کروائے ہیں۔ روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں یعسوب ہاشمی نے بتایا کہ انھوں نے سعودی عرب میں شدید گرمی کے پیش نظر یہ احترام تیار کروایا جو جملہ ساڑھے چار میٹر کا ہوتا ہے اورگرمی کابآسانی مقابلہ کرسکتا ہے ۔ 50 ڈگری درجہ حرارت میں بھی آپ اس احرام کو پہن کر خود کو بالکل آرام دہ اور گرمی میں ٹھنڈک کا احساس پاسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں یعسوب ہاشمی نے بتایا کہ وہ یہ احرام ٹاملناڈو میں تیار کرواتے ہیں کیونکہ وہاں معیاری بانس کے درخت پائے جاتے ہیں ، اُن کا کاروبار کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلا ہوا ہے ۔ انھوں نے سب سے پہلا بانس کے فیبرک سے تولیں تیار کروایا اور پھر احرام کی تیاری عمل میں لائی کیونکہ 2024 ء میں حج سیزن کے دوران سعودی عرب میں 52 ڈگری درجہ حرارت تھا جس کے نتیجہ میں زائد از 1300 عازمین ؍ حاجی جاں بحق ہوئے تھے ۔ احرام 33″x66″کا ہوتا ہے جس میں بیلٹ ، تولیہ اور دستی بھی ہوتی ہے ۔ ان کی اپنی ویب سائیٹ Zahya.in بھی ہے جس کے ذریعہ وہ آن لائین آرڈرس حاصل کرتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں یعسوب ہاشمی اور اُن کی اہلیہ نے بتایا کہ بانس کے پارچہ کے کرتا پاجامہ ، توب ( کندورا ) ، برقعہ یا عبایہ بھی مارکٹ خاص کر مشرق وسطیٰ کی مارکٹ میں متعارف کروانے کا ارادہ ہے ۔ اس جوڑے نے آج دفتر سیاست پہنچکر نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی اور مشورے حاصل کئے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ شمال مشرقی ریاستوں بشمول آسام ، میزورام ، اروناچل پردیش ، تریپورہ اور مغربی گھاٹوں میں تقریباً 15 ملین ہیکٹر اراضی پر بانس کے درخت پھیلے ہوئے ہیں ، ساتھ ہی مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، چھتیس گڑھ ، اوڈیشہ ، کرناٹک ، تاملناڈو ، کیرالا اور گوا میں بھی کم از کم 136 قسم کے بمبو درخت یا بانس کے درخت پائے جاتے ہیں جن سے ملبوسات ، فرنیچر ، سجاوٹ کی اشیاء ، موسیقی کے آلات ، رکابیاں ، کٹورے ، کٹلری ایٹمس ، موزے ، کتابیں ، کاپیاں غرض درجنوں چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ h/m/b