برقی شعبہ کی حقیقی صورتحال کو عوام کے سامنے لانے سے روکنے اپوزیشن کی کوشش

   

بی آر ایس ، مجلس اور بی جے پی رکاوٹ : ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر توانائی ملوبھٹی وکرامارکا
حیدرآباد۔21۔ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ عوام کے درمیان حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں بی آر ایس ‘ مجلس اور بی جے پی برقی شعبہ کی حقیقی صورتحال کو عوام کے سامنے لانے سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و فینانس منسٹر اور وزیر برائے توانائی مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج برقی پر وائٹ پیپر کی اجرائی کے بعد ہونے والے مختصر مدتی مباحث کے اختتام پر دیئے گئے جواب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں برقی شعبہ کو استحکام یو پی اے دور حکومت میں حاصل ہوا ۔ انہو ںنے تلنگانہ میں برقی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ برقی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور دیگر شعبوں کی طرح برقی بھی مقروض شعبہ بن چکا ہے۔ مباحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تجاویزپر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر بھٹی وکرمارک نے کہا کہ حکومت تلنگانہ ان تمام تجاویز اور اپوزیشن کی رائے کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر عمل آوری کے اقدامات کرے گی۔ ریاستی وزیر برقی توانائی نے اپوزیشن کے مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے برقی کے معیار کو بہتر بنانے کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پراجکٹ کی تکمیل کے لئے 5سال درکار ہوتے ہیں لیکن تلنگانہ میں جو برقی سربراہ کی جاتی رہی ہے وہ یو پی اے اور کانگریس حکومت کی کوششوں کا نتیجہ رہی ہے ۔ بھٹی وکرمارک نے استفسار کیا کہ بی آر ایس نے اپنے دور میں کونسے نئے پراجکٹ کو کارکرد بنایا !انہو ںنے بتایا کہ یو پی اے نے ملک بھر میں برقی خریدی اور فروخت کا مارکٹ تیار کیا تھا جس کا فائدہ بی آر ایس نے اٹھایا۔ وزیر فینانس نے بتایا کہ برقی شعبہ میں کانگریس نے 20 سال قبل جو اصلاحات لائے تھے اس کے ثمرات سے اب تک لوگ مستفید ہوتے رہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں برقی طلب 5661 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور موجودہ حکومت 2000 میگاواٹ برقی زیادہ پیدا کرنے کے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے برقی شعبہ پر 1لاکھ 57 ہزار کروڑ کا بوجھ عائد کیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ منجیرا‘ گنڈی پیٹ اور کرشنا کے پانی کو حیدرآباد تک پہنچانے کے لئے کام کیا لیکن سابقہ حکومت نے حیدرآباد کے صارفین کی سہولت کے لئے کوئی ایک ڈیم تعمیر نہیں کیا اور یہ دعوے کر رہی ہے کہ ریاست بھر میں سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں بی آر ایس نے اقدامات کئے ہیں۔ مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے اپنے جواب کے دوران کہا کہ گذشتہ 10 برسوں کے دوران بی آر ایس حکومت نے محض 1000 میگاواٹ برقی پیداوار کے اقدامات کئے ہیں۔انہو ںنے پرانے شہر کے برقی مسائل کے سلسلہ میں کئے گئے استفسارات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت پرانے شہر اور نئے شہر میں کوئی فرق نہیں کرے گی بلکہ پرانے شہر کے برقی مسائل کے حل کے سلسلہ میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ ان کی حکومت ریاست میں معیاری برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے عہد کی پابند ہے۔م