برقی کی مانگ اور کمی کے مطابق چارجس کی تجویز

   

طلب میں اضافہ پر 20فیصد زائد چارجس اور کمی پر 20فیصد کم چارجس

حیدرآباد ۔ 27مارچ ( سیاست نیوز)مرکزی حکومت نے برقی کی مانگ ( ڈیمانڈ) میں اضافہ کے وقت برقی صارفین سے 20فیصد زیادہ چارجس وصول کرنے اور مانگ میں کمی پر 20فیصد کم چارجس وصول کرنے کی تجویز تیار کی ہے اور احکامات ملک کی تمام ریاستوں کو روانہ کردیئے گئے ہیں ۔ اس پالیسی پر عمل آوری کیلئے یکم اپریل 2025 سے قبل سوائے زرعی صارفین کے دیگر تمام زمروں کے صارفین کیلئے اسمارٹ / پری پیڈ میٹرس لگا نے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں الکٹریسٹی ( صارفین کا حق) ترمیمی قواعد 2023 کا مسودہ جاری کیا گیا ہے ۔ ملک کی تمام ریاستوں کو اس فیصلہ پر 14 اپریل سے قبل اپنی رائے پیش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ تمام ریاستوں میں عام طور پر برقی کی زیادہ مانگ صبح 6 بجے سے 10بجے اور دوبارہ شام 5 بجے سے رات 9 بجے کے درمیان ہوتی ہے ۔ اس وقت ڈسکام برقی کی فراہمی کیلئے اوپن مارکٹ میں سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہوئے برقی خرید رہی ہے جس سے مالی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ فی یونٹ برقی کیلئے 5روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ 20فیصد کا اضافہ کردینے پر فی یونٹ برقی کی قیمت 6روپئے ہوجائے گی ۔ ڈیمانڈ کم ہونے والے اوقات صبح 10بجے سے شام 5بجے ( جب شمس توانائی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے ) کے دوران برقی چارج کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ مرکز نے آئندہ سال یکم اپریل 2024 تک تجارتی اور صنعتی صارفین کیلئے ٹائم آف ڈے ( ٹی او ڈی) ٹیرف کو 10کلو واٹ تک اور دیگر صارفین کیلئے یکم اپریل 2025 تک لاگو کرنے کو لازی قرار دیاہے ۔ جاری کردہ ترمیمی قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں اسمارٹ میٹرس لگائے جائے تو ڈسکام کے ملازمین کو دن میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور چیک کرنا چاہیئے اور تین ماہ میں کم از کم ایک بار ریڈنگ کی جانی چاہیئے اور اس کو ویب سائیٹ ، موبائیل ایپ یا ایس ایم ایس کی شکل میں دستیاب رکھنے پر زور دیا گیا ہے ۔ برقی صارفین نے کتنا ریچارج کیا ہے ، کتنی برقی استعمال ہوئی اور کتنی برقی بچی ہوئی ہے اس کی معلومات فراہم کی جانی چاہیئے ۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسمارٹ میٹرس کی تنصیب کے بعد لوڈ کتنا بڑھ جائے گا اور کسی بھی صورت میں صارفین پرڈیولپمنٹ چارجس یا جرمانے عائد کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ تین ماہ کے لوڈ کا جائزہ لیا جائے اور کم ترین لوڈ کا حساب رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ ن