بنگال اور آسام میں ٹی ایم سی اور کانگریس کے درجنوں مسلم امیدوار منتخب

   

بی جے پی کے 208منتخب بنگالی ارکان اسمبلی میں کوئی مسلم نہیں، سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں سے سماجی انصاف کو یقینی بنانا ضروری

: محمدمبشرالدین خرم :
حیدرآباد۔4مئی۔ہندستان کی 5 ریاستوںمیں انتخابی نتائج نے ثابت کردیا کہ ہندستانی مسلمان ہی دراصل ’سیکولرازم‘ کی بقاء اور ہندستان کی گنگاجمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں صف اول میں کھڑا ہوا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریتی طبقہ کو متحد کرتے ہوئے فرقہ واریت کی بنیاد پر ان کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن سیکولر رائے دہندوں کی تعداد میں آنے والی نمایاں گراوٹ اب شدت کے ساتھ محسوس ہونے لگی ہے کیونکہ مسلم رائے دہندوں نے متحدہ طور پر مخالف بی جے پی ووٹ کا استعمال کیا تو اکثریتی طبقہ نے مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر ہندوتوا کے لئے بی جے پی کے حق میں اپنے ووٹ کے استعمال کو ترجیح دی۔ مغربی بنگال ہویا آسام مسلم رائے دہندوں نے مسلم سیاسی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے سیکولر ازم کی علمبردار سیاسی جماعتوں کی کامیابی کو یقینی بنایا ہے بلکہ آسام میں کانگریس نے جن 19 حلقہ جات اسمبلی پر کامیابی حاصل کی ہے ان میں 18 مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ آسام میں جمیعۃ علماء کے سرکردہ قائد اور دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا بدرالدین اجمل کی سیاسی جماعت AIUDF کے محض 2مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہوپائے ہیں جن کی تائید مجلس اتحاد المسلمین نے بھی کی تھی۔ مغربی بنگال میں جہاں ترنمول کانگریس کو 79 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ان میں 31مسلم اراکین اسمبلی ہیں جو کہ ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال میں ہمایوں کبیر نے فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹ کی تقسیم کے لئے جو سازش تیار کی تھی اس کی پارٹی سے انتخابات میں حصہ لینے والے 141 امیدوار وں کو بنگال کے عوام نے مسترد کردیا جبکہ ہمایوں کبیر خود 2 حلقہ جات اسمبلی سے کامیاب رہے۔مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مسلم اراکین اسمبلی میں تعارف حسین‘ محمد مطیب الرحمن ‘ رکبان الرحمن‘ محمد قاسم صدیقی ‘ محمد سمیم احمد ملا‘ فرہاد حکیم‘ فیض الحق ‘ ڈاکٹر مشرف حسین ‘ محمد نظرالاسلام‘ سبینا یاسمین ‘ محمد نور عالم‘ اخترالزماں‘ ڈاکٹر عبدالعزیز‘ حسین سرکار‘ مستفیض الرحمن‘ بابر علی ‘ علیفااحمد‘ جابر شیخ ‘ برہان مقدم‘ محمد غلام ربانی ‘ آزاد منہاج العارفین ‘ مشرف حسین ‘ عبدالرحیم‘ انیس الرحمن ‘ محمد عبدالمتین ‘ محمد توصیف الرحمن ‘ محمد بہارالاسلام‘ احمد جاوید خان‘ عبدالخالق ملا اور گلشن ملک شامل ہیں۔ اسی طرح سی پی آئی ایم کے واحد رکن اسمبلی جو کامیاب ہوئے ہیں مستفیض الرحمن بھی مسلم ہیں۔اس کے علاوہ آل انڈیا سیکولر فرنٹ کے واحد کامیاب امیدوار محمد نواز صدیقی بھی مسلم ہیں۔بنگال میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے 2 اراکین اسمبلی بھی مسلم ہیں جن میں مہتاب شیخ اور ذوالفقار علی شامل ہیں۔بی جے پی جو کہ مجموعی طور پر 208 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی ہے ان 208 اراکین میں ایک بھی مسلم رکن اسمبلی موجود نہیں ہے۔اسی طرح آسام میں 126 ارکان اسمبلی میں 19 نشستوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی جن میں 18 مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ ( سلسلہ صفحہ 6 پر)