بنگال میں بی جے پی 200 پار۔ ٹاملناڈو میں وجئے کی پارٹی نے سنچری بنائی ۔ کیرالم میں کانگریس کو اقتدار

,

   

٭ آسام میں بھی بی جے پی کا دبدبہ برقرار ۔ 100 کا ہندسہ عبور کرلیا
٭ پڈوچیری میں برسر اقتدار اتحاد کو دوبارہ جیت ۔ وجئے کی پارٹی کو تین نشستیں
٭ ٹاملناڈو میں ایم کے اسٹالن اپنی ہی نشست ہار گئے ۔ بنگال میں بھی کئی وزرا کو ناکامی

نئی دہلی 4 مئی ( ایجنسیز ) ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں انتخابی نتائج کا آج اعلان کردیا گیا جس میں بی جے پی نے بنگال میں شاندار کامیابی درج کی ہے ۔ بی جے پی نے ریاست کی 294 رکنی اسمبلی میں 200 کا ہندسہ عبور کرلیا ہے ۔ اسی طرح ٹاملناڈو میں نتائج سب کو حیرت میں ڈالنے والے ثابت ہوئے جہاں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجئے کی پارٹی نے دونوں روایتی پارٹیوں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ وجئے کی پارٹی کو 234 رکنی ٹاملناڈو اسمبلی میں 106 نشستوں پر یا تو کامیابی مل گئی ہے یا اس کے امیدوار فیصلہ کن موقف حاصل کئے ہوئے ہیں۔ کیرالم میں کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف اتحاد نے ایک دہے بعد اقتدار پر واپسی کی ہے اور 140 رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف کو 89 نشستوں پر یا تو کامیابی حاصل ہوگئی ہے یا اس کے امیدواروں نے فیصلہ کن سبقت بنائی ہوئی ہے ۔ آسام میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا ہے جہاں بی جے پی کے امیدواروں نے 101 حلقوں میں یا تو کامیابی درج کرلی ہے یا سبقت بنائی ہوئی ہے ۔ اسی طرح پڈوچیری میں اے آئی این آر سی اتحاد نے 18 نشستوں پر جیت یا سبقت حاصل کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو برقرار رکھا ہے ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے کئی نشستوں پر جیت درج کی ہے اور کئی نشستوں پر وہ فیصلہ کن سبقت بنائے ہوئے ہے ۔ 2021 میں بی جے پی نے بنگال میں اسمبلی کی 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ جبکہ ترنمول کانگریس کو بنگال میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ترنمول کانگریس نے اس بار 82 نشستوں پر یا تو جیت درج کی ہے یا پھر فیصلہ کن سبقت بنائی ہوئی ہے ۔ 2021 میں ترنمول کانگریس کو 214 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس بار ترنمول کو 130 نشستوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام کانگریس کو دو نشستیں اور بائیں بازو اتحاد کو دو نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ٹاملناڈو میں اقتدار سے محروم ہونے والی ڈی ایم کے کو 74 نشستوں پر اکتفاء کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسے 2021 میں 159 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور اس بار اسے 85 نشستوں کا نقصان ہوا ہے ۔ انا ڈی ایم کے کو صرف 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس بار لای ایم کے کو 85 اور انا ڈی ایم کے کو 22 نشستوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کیرالم میں کانگریس زیر قیادت اتحاد نے دس سال بعد اقتدار پر واپسی کی ہے اور جملہ 89 نشستوں پر یاتو جیت حاصل کرلی ہے یا پھر فیصلہ کن موقف اختیار کرلیا ہے ۔ اس اتحاد کو 49 نشستوں کا فائدہ ہوا ہے کمیونسٹ جماعتوںکے ایل ڈی ایف کو 35 نشستوں پر کامیابی ملی ہے اور اسے 57 نشستوں کا نقصان ہوا ہے ۔ بی جے پی نے کیرالم میں اپنا کھاتہ کھولا ہے اور اسے تین نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ دیگر کو 13 نشستوں پر کامیابی ملی ہے ۔ آسام میں بی جے پی نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا ہے 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 101 نشستوں پر یاتو کامیابی مل گئی ہے یا پھر فیصلہ کن سبقت حاصل ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کو 28 نشستوں کا فائدہ ہوا ہے ۔ کانگریس کو 22 نشستیں ملیں ہیں اور اسے 9 نشستوں کا نقصان ہوا ہے ۔ بدر الدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف کو صرف 2 نشستیں ملی ہیں اور اسے 14 نشستوں کا نقصان ہوا ہے ۔ پڈوچیری کی 30 رکنی اسمبلی میں برسر اقتدار این آر سی اتحاد نے 18 نشستیں حاصل کرتے ہوئے اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے ۔ اسے دو نشستوں کا فائدہ ہوا ہے جبکہ کانگریس کو چھ نشستیں ملی ہیں اور اسے دو کا نقصان ہوا ہے ۔ وجئے کی پارٹی ٹی وی کے نے تین نشستیں حاصل کی ہیں۔ ٹاملناڈو میں سبکدوش ہونے والے چیف منسٹر مسٹر ایم کے اسٹالن کو خود اپنے حلقہ انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ مغربی بنگال میں ممتابنرجی حکومت کے کئی وزراء کو شکست ہوئی ہے ۔ کیرالا میں بھی کمیونسٹ اتحاد کے کئی اہم امیدواروں کو عوام نے مسترد کردیا اور انہیں ناکامی ہاتھ آئی ہے ۔ آسام میں پردیش کانگریس کے صدر گورو گوگوئی کو اپنے حلقہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی ہیڈ کوارٹرس میں بڑے پیمانے پر جشن منایا گیا ۔ پارٹی کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی بی جے پی ہیڈ کوارٹرس پہونچ گئے تھے اور انہوں نے انتخابی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی بی جے پی کارکنوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر جیت کا جشن منایا گیا اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں پیش کی گئیں۔