ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے رہنما ناہد اسلام نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنا لی ہے۔ طلبہ کی نئی جماعت بنگلہ دیش میں رواں برس کے اختتام پر ممکنہ طور پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔بنگلہ دیش کے معروف اخبار ‘ڈیلی اسٹار’ کی رپورٹ کے مطابق طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے ناہد اسلام نے نوبیل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت میں مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ناہد اسلام بنگلہ دیش میں گزشتہ برس کوٹہ سسٹم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے روح رواں تھے۔ان کی قیادت میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بنی تھی۔طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے پانچ اگست 2024 کو وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اقتدار اور ملک چھوڑ کر ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی تھیں اور وہ بدستورہندوستان میں ہی موجود ہیں۔بنگلہ دیش میں مبینہ امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والے طلبہ کے پلیٹ فارم ‘جاتیا ناگورک کمیٹی’ نے ایک فیس بک پوسٹ میں پارٹی کے نام کی تصدیق کی ہے۔کمیٹی نے پارٹی کیلئے ‘جاتیا ناگورک پارٹی’ کا نام تجویز کیا ہے جس کا انگریزی مخفف این سی پی یعنی نیشنل سٹیزن پارٹی ہے۔ ناہد اسلام پارٹی کے کنوینر جبکہ اختر حسین سیکریٹری ہوں گے۔
پارٹی میں چار دیگر اہم عہدوں کے لیے بھی ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔بنگلہ دیش میں گزشتہ برس کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ تحریک کی قیادت ناہد اسلام نے کی تھی جب کہ اختر حسین سیکریٹری تھے۔