بچپن کی شادی کو ختم کرنے سپریم کورٹ کی ہدایات

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میںبچپن شادی کومکمل طور پر ختم کرنے کیلئے قوانین کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو تفصیلی ہدایات جاری کردی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ بچپن شادی کسی کے رفیق حیات کے انتخاب کے حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور منوج مشرا کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ بچپن کی شادی یا کسی بچے کی منگنی بھی اپنی آزاد مرضی سے رفیق حیات منتخب کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہے ۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہاکہ قانون کا نفاذ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب کثیر شعبہ جاتی ہم آہنگی ہو۔ قانون نافذ کرنے والے افسران کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ہم ایک بار پھر کمیونٹی پر مبنی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔خیال رہے کہ ایک این جی او سوسائٹی فار اینلائٹنمنٹ اینڈ والنٹری ایکشن (سیوا) نے سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں کم سنی کی شادی کی صورتحال سنگین صورت اختیار کرگئی ہے اور اس کی روک تھام کیلئے وضع کردہ قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے ۔غیر سرکاری تنظیم ‘سیوا’ ‘ 2030 تک ملک بھر سے کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ کام کر رہے چائلڈ میرج فری انڈیا’ (سی ایم ایف آئی) مہم کی ایک پارٹنر تنظیم ہے جو اس فیصلے سے ہندوستان میں ان کوششوں کو مزید تقویت ملے گی، جو پہلے ہی بچوں کی شادی کے خلاف مہم میں عالمی رہنما ہے ۔