جانوروں کی دیکھ بھال کیلئے فکرمند، پرورش وبال جان ، کھلا چھوڑنے پر مجبور
حیدرآباد /13 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) لمپی وائرس کے خوف کے سبب بڑے جانوروں کے گوشت کے استعمال میں کمی کا راست اثر جانوروں کے مالکین پر پڑا ہے ۔ جانوروں کی فروخت سے زندگی کے گذر بسر پر انحصار کرنے والے کسان اور تاجر اب جانوروں کی دیکھ بحال کے تعلق سے فکرمند ہیں اور اکثر مقامات پر جانوروں کو چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ چونکہ اب ان جانوروں کی پرورش وبال جان بن گئی ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں افراد خاندان اور بال بچوں کی پرورش ہی مشکل تصور کی جانے لگی ہے ۔ ایسی صورت میں جنم دینے والی ماں ہو جذباتی ماں کو اہمیت دینا مشکل بن گیا ہے ۔ اور جنم دینے والی ماں ہی پرورش اور دیکھ یٔعافیت تصور کیا جارہا ہے ۔ لمپی وائرس سے بڑے جانوروں اور تاجرین کی مشکلات پولٹری انڈسٹری سے مختلف ہیں ۔ برڈ فلور دیگر امراض کی پھیلاؤ پر قسمت کم ہوجاتی ہے تو پوٹری انڈسٹری شادی بارات اور عیدین کے سیزن میں قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ ایک مقررہ مدت تک مرغ کو غذا فراہم کرنے کے بعد اس کو مارکٹ میں فروخت کرنا ہوتا ہے۔ اور مقررہ مدت کے بعد مرغ کو غذا فراہم کرنا پرورش اور فارمنگ کرنے والوں کیلئے نقصان ثابت ہوتا ہے چونکہ مرغ کے مختلف اقسام ہیں ۔ ان کی مقرر مدت تک پرورش کی جاتی ہے ۔ جس کے بعد ان کی نشونما نہیں ہوتی ۔ اس لحاظ سے خاص کر شادیوں کے سیزن اور عیدین کے موقع پر پہلے سے تیار کرتے ہوئے مارکٹ میں خلت پیدا کی جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ۔ لیکن بڑے جانوروں کے تعلق سے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے جانوروں کی پرورش ایک مشکل عمل تصور کیا جاتا ہے ۔ مارکٹ میں عیدین کے موقع پر ہی ان کا سیزن مانا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں قیمت میں اضافہ کا تصور نہیں بلکہ جو قیمت حاصل ہوگی اس قیمت میں فروخت کرنا ہی کسانوں اور جانوروں کی پرورش کرنے والوں کیلئے عافیت سمجھا جارہا ہے ۔ بڑے جانور بازار میں آنا بند ہوچکے ہیں ۔ عوام میں دن بہ دن بڑھتے خوف سے گوشت کے استعمال کو بند کیا جارہا ہے اور تقریباً دوکانات اور مسالخ میں بھی جانوروں کو ذبیحہ کم کردی گئی ہے ۔ عوام لمپی وائرس کے سبب گوشت خریدنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے اور قومی و عالمی سطح پر وائرس کا وہاں انٹرنیشنل مارکٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ اکثر ممالک بھارت سے ایکسپورٹ ہونے والے بیف کو بند کرچکے ہیں۔ جس کا راست اثر جانوروں پر انحصار کرنے والی عوام پر پڑھ رہا ہے اور وہ ان کی پرورش کو لیکر فکرمند ہیں ۔ اخراجات کو برداشت کرنا اور ان کی پابجائی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔ خرید فروخت پر انحصار کرنے والے تاجرین بھی بری طرح معاشی لپیٹ کا شکار بن رہے ہیں ۔ع
اور ان حالات میں اپنا اور افراد خاندان کے گذر کو اہمیت دیتے ہوئے جانوروں کی پرورش کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مرکز کی جانب سے ویکسن کی مارکٹ میں دستیابی کیلئے وقت کو درکار قرار دینے کے بعد عوام مزید خوف زدہ ہیں اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری کے متعلق واقعات پر گوشت کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے اپنی خود حفاظت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ ع