ممبئی: کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد رہتے ہیں۔بھارت بھوشن بھی ایک ایسے ہی اداکار تھے۔ فن کاروں،ادیبوں، موسیقاروں، بھکتوں اور تاریخی حیثیت رکھنے والی شخصیات کو اپنی بہترین فطری اداکاری سے پردہ سیمیں پر زندہ کرنے والے بھارت بھوشن آج ہی 27جنوری 1992کو ہم سے جدا ہوئے تھے ۔ 143فلموں میں اداکاری کا جوہر دکھانے والے بھارت بھوشن نے مشہور زمانہ شاعرمرزاغالب پر مبنی فلم‘مرزا غالب’ میں غالب کا رول بھی بخوبی نبھایا۔ سہراب مودی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس بھارت بھوشن نے غالب کے کردار کو اس قدر خوب صورت انداز میں نبھایا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالب بذات خود ہی پردے پر اتر آئے ہیں۔ دل چھونے والی غزلوں’ بہترین مکالموں اورعمدہ اداکاری کی بدولت اس فلم کونیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ غزلوں کے شہنشاہ طلعت عزیز اور اداکارہ و گلوکار ثریا کی میٹھی آواز نے اس فلم کو جلا بخشی اور ۔۔۔آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک؍کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور؍پھر مجھے دیدئہ تر یاد آیا اور میرے بانکے بلم کوتوال سے لوگ خوب لطف اندوز ہوئے ۔عروس البلاد بمبئی میں گلوکارہ بننے کی تمنا لے کر آنے والے بھارت بھوشن کو جب اس شعبہ میں کامیابی نہیں ملی تو انہوں نے اداکاری کی جانب قدم بڑھایا اور 1941میں بننے والی فلم ‘چترلیکھا’ میں انہیں ایک چھوٹاسا رول ملا۔ان کی مشہور فلموں میں بیجوباؤرا، برسات کی رات، گھونگھٹ، سوہنی مہیوال، نیا قانون اور پھاگن کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کا آخری زمانہ بہت تکلیف میں گزارا اور بالآخر وہ 27 جنوری 1992ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔
ہندوستان کے شاندار ماضی کے مطابق عمل کریں
بھوپال: مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل نے آج ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کے شاندار ماضی اور بھرپور ثقافتی روایات کے مطابق عمل کی راہ پر چلتے ہوئے مدھیہ پردیش کو ترقی یافتہ اور خود انحصار بنانے میں اپنا بہترین تعاون دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہیکہ ہم ہندوستانی عوام آئین میں درج انصاف، آزادیاور بھائی چارے کے راستے پر چلتے ہوئے ترقی کی راہ پر مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔
حکومت کا مقصد بہت واضح ہے ۔ پہلا، تمام طبقوں اور علاقوں کی ترقی اور بااختیار بنانا، دوسرا، عوامی بہبود کی اسکیموں کے فوائد کو قطار میں کھڑے آخری فرد تک پہنچانا، تیسرا، ریاست کی ہمہ جہت ترقی کیلئے فزیکل انفراسٹرکچر کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنا۔ چوتھا، تعلیم، صحت، ہنرمندی کی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار اور سب کیلئے خود کے روزگار کو ترجیح دینا۔ پانچویں، حکومت کے کام کاج میں ہر سطح پر اچھی حکمرانی کو یقینی بنانا اور چھٹا، وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے منشور میں دی گئی ضمانتوں کو پورا کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کو ملک کی سب سے اہم ریاست بنانا ہے ۔