بی آر ایس تلنگانہ کی صدارت کے ٹی آر کے سپر د کئے جانے کا امکان

   

آزادانہ مواقع فراہم کرنے ہریش راؤ اور کے کویتا کو مرکزی کمیٹی میں شامل کرنے پر بھی چندر شیکھر راؤ کا غور

حیدرآباد۔11۔ڈسمبر(سیاست نیوز) بھارت راشٹر سمیتی تلنگانہ کی صدارت چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے فرزند و ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ کے حوالہ کی جائے گی اور تلنگانہ میں کوئی دوسرا طاقت کا مرکز نہ رہے اس کیلئے وزیر فینانس ہریش راؤ کو بھارت راشٹر سمیتی کی مرکزی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا!پارٹی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے تلنگانہ راشٹر سمیتی کے بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل ہونے کے بعد اس پر پارٹی قائدین سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے اور مرکزی کمیٹی میں ہریش راؤ کے علاوہ رکن راجیہ سبھا جے سنتوش کمار اور دختر کویتا کو شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کارگذار صدر کی حیثیت سے کے ٹی آر کی خدمات کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے انہیں تلنگانہ امور کی ذمہ داری تفویض کی جاسکتی ہے اور انہیں قومی امور سے دور رکھتے ہوئے تلنگانہ تک محدود کرنے کے اقدامات کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات میں ہریش راؤ کو لوک سبھا سے مقابلہ کیلئے کہا جاسکتا ہے تاکہ وہ دہلی میں رہ کر پارٹی کے قومی امور کی نگرانی و دیگر ریاستوں کے قائدین سے تعلقات کو استوار کرسکیں۔ بتایاجاتا ہے کہ چندرشیکھر راؤ بھارت راشٹرسمیتی کے روزمرہ کے قومی امور کی نگرانی کیلئے اپنے کسی بااعتماد فرد کو قومی کمیٹی میں شامل کرنا چاہتے ہیں جبکہ فلم اداکار پرکاش راج کوبھی جنوبی ہند کی ریاستوں میں پارٹی استحکام کی ذمہ داری تفویض کئے جانے کا امکان ہے۔ تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی ریاستی یونٹ کی ذمہ داری کے ٹی آر کے حوالہ کئے جانے کیلئے کہا جار ہاہے کہ پارٹی سربراہ نے کے ٹی آر کوریاستی امور تفویض کرکے ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ ان کے طریقہ کار کا بھی مشاہدہ کیا ہے اسی لئے کوئی شبہنہیں کہ تلنگانہ امور کی ذمہ داری کے ٹی آر کے حوالہ کی جائیگی اور انہیں آزادانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینے کسی دوسرے طاقت کے مرکز کو تلنگانہ میں باقی نہیں رکھا جائیگا تاکہ کے ٹی آر کی راہ کیلئے رکاوٹ نہ ہو ۔ ہریش راؤ کو قومی ذمہ داروں میں شامل کرنے کے بعد ان کی سرگرمیاں تلنگانہ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ وہ دیگر ریاستوں میں اپنے بااعتماد رفقاء کے ساتھ مصروف ہوجائیں گے۔ رکن کونسل کے کویتا جو سابق میں رکن لوک سبھا بھی رہ چکی ہیں اسی لئے انہیں قومی سطح پر ذمہ داری تفویض کرنے پر غور کیا جا رہاہے۔م