ایک سال میں کے سی آر حکومت واپس آئے گی، کریم نگر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں شرکت
حیدرآباد۔/28 اپریل ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ دستور میں کسی بھی تبدیلی کو روکنے کی طاقت بی آر ایس میں ہے۔ بی آر ایس حیدرآباد کو متحدہ دارالحکومت یا مرکزی زیر انتظام علاقہ ہرگز بننے نہیں دے گی۔ لوک سبھا حلقہ کریم نگر کے تحت ویملواڑہ میں کے ٹی آر نے بوتھ سطح کے پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے بی آر ایس امیدوار بی ونود کمار کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 2014 میں مودی نے عوام کو دھوکہ دے کر ووٹ حاصل کئے تھے۔ ہر شخص کے کھاتہ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کانگریس نے چھ ضمانتوں کے نام پر اسمبلی چناؤ میں عوام سے تائید حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے تلنگانہ سے گذشتہ دس برسوں میں ناانصافی کی ہے۔ تنظیم جدید قانون کے وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ مودی حکومت میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ مودی حکومت نے قومی شاہراہوں کی تعمیر کیلئے عوام پر ٹیکس کا بوجھ عائد کیا۔ تازہ ترین فیصلہ میں ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے 30 لاکھ کروڑ وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم میں 14.50 لاکھ کروڑ اڈانی اور امبانی کے حصہ میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر میں اصل مقابلہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ ٹکٹ الاٹمنٹ کے بارے میں میچ فکسنگ ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے پراوین ریڈی اور جیون ریڈی کو ٹکٹ کا لالچ دیا لیکن بعد میں راجندر راؤ کو ٹکٹ کا اعلان کیا گیا۔ پراوین ریڈی اور جیون ریڈی الیکشن میں ہوتے تو سخت مقابلہ ممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ونود کمار کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی نے بنڈی سنجے سے میچ فکسنگ کرتے ہوئے ڈمی امیدوار میدان میں اُتارا ہے۔ کے ٹی آر نے یقین ظاہر کیا کہ بی آر ایس 10 تا12 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور اندرون ایک سال کے سی آر کی حکومت دوبارہ قائم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی بس یاترا کو عوام کی غیرمعمولی تائید حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام کے تحت کویتا کو جھوٹے مقدمہ میں جیل میں بندکیا گیا اور 70 سال کی عمر میں والد کے سی آر کو تکلیف پہنچائی گئی۔1