ریاست میں لوٹ مار اور تباہی ۔ موسیٰ ندی کی ترقی پر رئیل اسٹیٹ اسکام ۔ جلسہ عام سے کے سی آر کا خطاب
ریونت ریڈی ہزارہا جنم لیں تو بھی میں نہیں مروں گا۔ خوشحال ریاست غلط حکمرانی سے بدحالی میں تبدیل
: محمد نعیم وجاہت :
حیدرآباد :20 اپریل ۔ بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریاست میں اگلی بار بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی اور پہلی دستخط سے حیڈرا کو برخاست کرتے ہوئے تالاب میں پھینک دینے کا اعلان کیا ۔ آج جگتیال میں منعقدہ بی آر ایس کے جلسہ عام میں کانگریس کے سینئر قائد ٹی جیون ریڈی اپنے حامیوں کیساتھ بی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ کے سی آر نے پارٹی میں ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی آر ایس کا جنرل سکریٹری نامزد کرنے کا اعلان کیا اور حکومت کی تشکیل کے بعد بڑی ذمہ داری سونپنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ ہم دونوں پارٹی میں بھائی بھائی کی طرح کام کریں گے ۔ بی آر ایس کے سربراہ نے تلنگانہ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں خوشحال رہنے والی ریاست کانگریس کے دور حکومت میں بدحال ہوچکی ہے جس کو دیکھ کر انہیں بیحد دکھ ہورہا ہے ۔ وہ جگتیال کے جلسہ عام سے کانگریس حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں ۔ یہاں کانگریس حکومت کازوال ہوگا اور بی آر ایس کا احیاء ہوگا ۔ کے سی آر نے طنزیہ اور جارحانہ موقف اپناتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بشمول کانگریس کے چند قائدین روزانہ کے سی آر کے مرنے کی خواہش کرتے ہیں مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ اگر تم ہزار بار بھی جنم لے لوتومیں مرنے والا نہیں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حیڈرا کے نام پر غریبوں کے مکانات پر بلڈوزرس چلاتے ہوئے انہیں اپنے ہی مکانات سے محروم کیا جارہا ہے ۔ ریاستی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت سے سماج کاکوئی بھی طبقہ مطمئن نہیں ہے ۔ ریاست کی مالی حالت کمزور ہوچکی ہے ، سرکاری ملازمین ، ریٹائرڈ ملازمین ، طلبہ ، آٹو ڈرائیورس سب مشکلات کا شکار ہیں ۔ خواتین کو ماہانہ 2500/- روپئے مالی امداد دینے کے وعدے کو پورا نہیںکیاگیا ، چھ ضمانتیں 400 سے زیادہ جھوٹے وعدے کرتے ہوئے عوام کو ہتھیلی میںجنت دکھائی گئی مگر حکومت کی نصف میعاد مکمل ہونے کے باوجود کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ میں نے اُس وقت خبردار کیا تھا لیکن عوام کانگریس پر بھروسہ کرگئے ، آج انہیں پچھتاوا ہورہا ہے ۔ کانگریس حکومت لوٹ مار اور تباہی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے ۔ موسیٰ ندی کی ترقی کے نام پر 40 ہزار مکانات کو منہدم کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے ، بی آر ایس پارٹی ترقی کے خلاف نہیں ہے ، غریب عوام کے مکانات کو منہدم کئے بغیر بھی ترقی دی جاسکتی ہے مگر ترقی کے نام پر رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی آر ایس کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے مشن کاکتیہ اور مشن بھاگیرتا کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان اسکیمات کے ذریعہ نہ صرف آبپاشی کو فروغ ملا بلکہ گھر گھر نلوں کے ذریعہ صاف پینے کا پانی دستیاب ہوا ۔ انہوں نے برقی کٹوتی ،یوریا کی قلت ، زرعی شعبہ کی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ تلنگانہ تحریک کی ابتداء اختتام اور کامیابی کے علاوہ بی آر ایس کے 10سالہ کارناموں پر روشنی ڈالی ۔2