چیوڑلہ سے رنجیت ریڈی اور سکندرآباد سے ناگیندر امکانی امیدوار، ملکاجگیری سے سنیتا مہیندر ریڈی کے نام کو قطعیت
حیدرآباد۔/17 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس کو آج اس وقت زبردست جھٹکہ لگا جب چیوڑلہ رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی و رکن اسمبلی خیریت آباد ڈی ناگیندر نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کانگریس میں شامل بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 2 ہوچکی ہے۔ گذشتہ دنوں ورنگل کے بی آر ایس ایم پی دیاکر نے بی آر ایس سے استعفی دے کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی نے رنجیت ریڈی و ڈی ناگیندر کا کانگریس میں استقبال کیا اور انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہنایا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی موجودگی میں دونوں قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ قبل ازیں رنجیت ریڈی نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو مکتوب استعفی روانہ کیا۔ انہوں نے چیوڑلہ عوام کی خدمت کا موقع دینے پر کے سی اور کے ٹی آر سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے بی آر ایس کے دیگر قائدین سے بھی تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ حال میں ظہیرآباد رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل نے بی آر ایس سے استعفی دیا ہے۔ رنجیت ریڈی اور ڈی ناگیندر کی کانگریس میں شمولیت کی سرگرمیاں کل سے جاری تھیں۔ شمولیت کے موقع پر حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر، سابق وزیر مہیندر ریڈی، رکن کونسل مہیش کمار گوڑ، فہیم قریشی اور خیریت آباد کانگریس صدر روہن ریڈی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس رنجیت ریڈی کو چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنائے گی جبکہ ڈی ناگیندر کو سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس امیدوار بنایا جائے گا۔ ناگیندر کے الیکشن میں حصہ لینے کے مسئلہ پر قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنے ماہرین سے مشاورت کی گئی۔ بتایا گیا کہ ناگیندر بی آر ایس رکن اسمبلی برقرار رہ کر کانگریس ٹکٹ پر سکندرآباد حلقہ سے مقابلہ کریں گے۔ بی آر ایس ان کے خلاف اسپیکر سے شکایت کرسکتی ہے اور یہ معاملہ اسپیکر کے پاس طویل عرصہ تک زیر التواء رہ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے چیرپرسن ضلع پریشد رنگاریڈی سنیتا مہیندر ریڈی کو ملکاجگیری حلقہ سے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق وزیر پی مہیندر ریڈی اور ان کی اہلیہ نے حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بی آر ایس قائدین کی تازہ شمولیت سے پارٹی کو تین حلقہ جات کیلئے امیدوار مل چکے ہیں۔ ڈی ناگیندر سکندرآباد میں مرکزی وزیر کشن ریڈی سے مقابلہ کریں گے۔ کشن ریڈی سے مقابلہ کیلئے کانگریس کو مضبوط امیدوار کی تلاش تھی۔ سابق میئر بی رام موہن کا نام بھی زیر غور رہا لیکن ناگیندر کی شمولیت کے بعد ان کا تقریباً طئے ہوچکا ہے۔ ناگیندر کا تعلق بی سی طبق کے منورکاپو کاسٹ سے ہے، وہ سابق میں سیاسی پارٹیاں تبدیل کرچکے ہیں۔ 2004 میں انہوں نے تلگودیشم ٹکٹ پر آصف نگر حلقہ سے کامیابی حاصل کی اور بعد میں کانگریس میں شامل ہوئے ۔ وہ بی آر ایس ٹکٹ پر 2009، 2018 اور پھر 2023 میں خیریت آباد حلقہ سے منتخب ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مزید بی آر ایس قائدین جلد کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔1