کیا یہی تربیت دی کے سی آر سے استفسار ، سیاہ دن قرار دیا ، بی آر ایس کے ارکان کو معطل کرنے کا اسپیکر سے مطالبہ کیا
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے اسمبلی میں بی آر ایس کی ہنگامہ آرائی کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ایک شخص کے لیے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو معطل کرنے کا اسپیکر اسمبلی سے مطالبہ کیا ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی کو ریاست کے عوام سے زیادہ صرف کے سی آر خاندان کی فکر ہے ۔ انہوں نے ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے بی آر ایس کے سربراہ قائد اپوزیشن کے سی آر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنے ارکان اسمبلی کو یہی تہذیب و تربیت دی ہے ۔ ریاست کے کئی عوامی مسائل ہیں بھوبھارتی اہم بل پر مباحث جاری ہے ۔ اہم اپوزیشن جماعت ہونے کے ناطے عوامی مسائل پر رائے پیش کرنے کے بجائے صرف ایک خاندان کے لیے بی آر ایس پارٹی اسمبلی میں احتجاج کررہی ہے ۔ ایک شخص کے لیے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ہنگامہ آرائی کررہی ہے ۔ لہذا وہ اسپیکر سے اپیل کرتے ہیں فوری بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو معطل کردیں ۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی نے گڑبڑ کرتے ہوئے مارشلس سے بدسلوکی کی ۔ اسپیکر کے پوڈیم کے قریب گھس پڑنے کی کوشش کی ہے ۔ اسپیکر کے ساتھ الجھنے کی کوشش کی ہے ۔ بی آر ایس کو عوامی مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ انہیں اپنی پارٹی ہی سب کچھ ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ دھرانی میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں صرف کے سی آر کے ارکان خاندان کے لیے دھرانی پورٹل متعارف کرایا گیا ہے ۔ ریاست میں 10 سال تک کچرا حکومت تھی ۔ انہوں نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی سے سوال کیا کہ وہ اسمبلی کو عوام کے لیے آئے ہیں یا کے سی آر خاندان کے لیے آئے ہیں ۔ اہم موضوع پر بات ہورہی ہے ۔ بی آر ایس کے ارکان تعاون کرنے کے بجائے احتجاج کرتے ہوئے بھوبھارتی پر مباحث ہونے نہیں دے رہے ہیں ۔ احتجاج کرنا تمام ارکان کا اخلاقی حق ہوتا ہے ۔ اس کے بھی حدود ہوتے ہیں ۔ ہم عوام کے مسائل کو اٹھائے۔ عوام اور کسانوں سے نا انصافی ہوئی ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کانگریس حکومت سے اراضیات کی ایڈ میٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا ۔ ریاست میں بی آر ایس حکومت نے جس طرح کام کیا ہے ۔ آج اسمبلی میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ دھرانی سے ہزاروں ایکر اراضی کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت اس کو درست کریں ریاست میں تاناشاہی نہیں چلے گی ۔ بی آر ایس دوسروں پر تنقید کرنے سے قبل اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھیں ۔۔ 2