ہمایوں کبیر اور بی جے پی کے چند قائدین کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ ۔ تحقیقات کو دیگر ریاستوں تک توسیع دئے جانے کا بھی امکان
حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) ہمایوں کبیر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے ویڈیو اور بی جے پی سے 1000 کروڑ کی ڈیل کے معاملہ میں مغربی بنگال میں نیا موڑ آچکا ہے اور اس کی تحقیقات کیلئے مغربی بنگال پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا گیا کہ ’عام جنتا اناین پارٹی‘ اور اسکے صدرنشین ہمایوں کبیر کے خلاف بنگال میں حاجی محمد پرویز صدیقی صدر الپسنکھیک آرکشن مورچہ نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور 1000 کروڑ روپئے حاصل کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی سازش کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ بتایا گیا کہ شکایت کنندہ نے ہمایوں کبیر کے علاوہ کسی نام نہیں دیا لیکن بالواسطہ طور پر نشاندہی کی کہ ہمایوں کبیر کی تمام سرگرمیوں بالخصوص ان کی پارٹی میں موجود افراد اور ان سے اتحاد کرنے والوں کی بھی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ ہمایوں کبیر نے ویڈیو میں 1000 کروڑ حاصل کرکے بی جے پی کے ساتھ بنگال میں مسلمانوں کے ووٹ کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی سازش تیار کی تھی اور انہوں نے مغربی بنگال میں مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا اعلان کرکے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں بیرسٹر اسد اویسی نے کہا تھا وہ ہمایوں کبیر سے اتحاد کیلئے کئی ماہ سے مذاکرات کر رہے تھے اور غور و خوص اور کئی امور پر تبادلہ خیال کے بعد ہی ہمایوں کبیر کی جماعت سے اتحاد کا فیصلہ کیا گیا ۔بیرسٹر اویسی نے بعد کہا تھا کہ انہوں نے مختلف امور پر ہمایوں کبیر سے تبادلہ خیال اور کئی ماہ کی مشاور ت کے بعد یہ فیصلہ کیا اور وہ ہمایوں کبیرکے تمام نظریات سے متفق ہیں اور ایک نظریہ سے اختلاف ہے اور وہ یہ کہ ’ہمایوں کبیر ‘ کہتے ہیں کہ وہ مغربی بنگال میں ڈپٹی چیف منسٹر عہدہ کیلئے مقابلہ کررہے ہیں لیکن بیرسٹر اسد اویسی نے کہا تھا کہ مجلس نے ان کے ساتھ اتحاد کیا ہے تاکہ مغربی بنگال میں مسلمان کو چیف منسٹر بنایا جائے ۔ ہمایوں کبیر نے ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مسلمان جذباتی ہوتا ہے اور اسے بے وقوف بنانا آسان ہوتا ہے ۔ انہو ںنے بی جے پی سے 1000 کروڑ کی معاملت کا بھی انکشاف کیا تھا اور اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اسد اویسی اور مجلس نے ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔ ہمایوں کبیرنے ابتداء میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کا ویڈیو فرضی ہے اور اے آئی ذریعہ تیار کیاگیا لیکن 48 گھنٹے میں انہوں نے ویڈیو کے حقیقی ہونے کا اعتراف کرکے اسے منظر عام پر لانے ترنمول قائدین کو مورد الزام ٹہرانا شروع کردیا ہے ۔ بتایا گیا کہ بنگال پولیس نے 1000 کروڑ کی معاملت سے ہندو اور مسلمانوں میں منافرت پھیلانے اور بھڑکانے سازش کے معاملہ میں ہمایوں کبیر اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔ کہا جار ہاہے بنگال پولیس اس میں تحقیقات کے دائرہ کو کئی ریاستوں تک پھیلانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں کو بھڑکانے کی سازش کا مکمل پردہ فاش کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مقدمہ کے بعد ہمایوں کبیر کی پارٹی کے قائدین و بی جے پی کے بھی بعض قائدین کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ صدر راشٹریہ الپسنکھیک آرکشن مورچہ محمد پرویز صدیقی کی شکایت پر سوری پولیس اسٹیشن بیربھوم میں مقدمہ کی تحقیقات میں پولیس ملک کے مختلف شہروں میں جہاں رقمی لین دین اور معاملتیں ہوئی ہیں تفصیلات جمع کررہی ہے ۔ بتایا گیا کہ ہمایوں کبیر پر مقدمہ کے بعد تحقیقات میں مزید ’ قائدین و سرکردہ افراد کو بھی بطور ملزم نوٹس جاری کی جاسکتی ہے۔3