ہندوستان پر مخالف مسلمان اور عیسائی مہر لگ جاتی ہے تو ملک بہت بڑے نقصانات سے دوچار ہوگا
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : آندھرائی قائد سابق رکن پارلیمنٹ انڈا ولی ارون کمار نے کہا کہ بی جے پی سے ملک کو خطرہ ہے جس کا مقابلہ صرف چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کرسکتے ہیں ۔ کل پرگتی بھون میں کے سی آر سے 5 گھنٹوں تک ملاقات کرنے والے ارون کمار نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوائے کے سی آر کے ملک کا کوئی بھی چیف منسٹر بی جے پی سے مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ بی جے پی سے ملک کو بچانے کے لیے کے سی آر کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 10 دن قبل کے سی آر نے انہیں ٹیلی فون کیا تھا اور لنچ پر مدعو کیا ۔ کے سی آر کی دعوت کو وہ قبول کرچکے ہیں ۔ پرگتی بھون میں ہریش راؤ نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ پہلے آدھے گھنٹے تک ہریش راؤ سے بات چیت ہوئی اس کے بعد کے سی آر اور پرشانت کشور سے ملاقات ہوئی ۔ ارون کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس کی قومی جماعت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھے آندھرا کے لیے انچارج بنانے کی کوئی تجویز سامنے آئی ہے ۔ بی جے پی کے بارے میں میرے جو خیالات نظریات ہیں وہی خیالات اور نظریات کے سی آر کے بھی ہیں ۔ اگر اب بی جے پی کو روکا نہیں گیا تو اس کے ووٹوں کے تناسب میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔ مودی کے وزیراعظم بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ان کی پالیسیوں سے دنیا کے سامنے ہندوستان کو شرمسار ہونا پڑرہا ہے ۔ ابھی تک چار پانچ ممالک نے ہندوستان سے معذرت خواہی کرنے پر زور دیا ہے ۔ اگر ہندوستان پر مسلمان اور عیسائی مخالف ملک کی مہر لگ جاتی ہے تو ہم سب نقصانات کا شکار ہوجائیں گے ۔ دوسرے ممالک پر ہم اور ہمارے ملک پر دوسرے ممالک کا انحصار ہے ۔ ملک کے کشیدہ حالات کو دور کرنا وقت کا بڑا تقاضہ ہے ۔ اپوزیشن کا خاتمہ کرنے کیلئے بی جے پی منظم سازش کے تحت مقدمات درج کررہی ہے ۔ بی جے پی سے مقابلہ کرنے کیلئے کے سی آر کے پاس ایجنڈا ہے ۔ بی جے پی کی پالیسیوں اور نظریات کو عوام کے سامنے آشکار کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ ن