بی جے پی نے جمہوریت کا نقصان کیا، اسے ہٹانا ضروری: اکھلیش

   

لکھنؤ : سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں رہنے سے جمہوریت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اس لیے اسے اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے ۔جمعہ کو پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں مختلف اضلاع کے کارکنوں اور لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر یادو نے کہا کہ کارکنوں کو ہوشیار رہنا ہوگا۔ اپنی زبان اور سلوک کو درست رکھتے ہوئے لوگوں کی خوشی اور غم میں شریک بنیں۔ عوام کے مسائل سے جڑ کران کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسی کی سگی نہیں ہے ۔ بی جے پی کے حامی بھی سمجھ گئے ہیں کہ یہ حکومت انہیں نقصان پہنچا رہی ہے ۔ کسان، نوجوان، تاجر، سبھی بی جے پی کی غلط پالیسیوں سے مایوس اور ناخوش ہیں۔ یہ حکومت لوگوں کو ہراساں کررہی ہے ۔ ناانصافی اور ظلم کر رہی ہے ۔ اس حکومت میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہونے والی ہے ۔ بڑے بڑے انویسٹر میٹ کرائے گئے لیکن سب دکھاوا ثابت ہوئے ہیں۔مسٹر یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں کوئی نئی سرمایہ کاری نظر نہیں آرہی ہے ۔ پرانے کارخانے ریاست سے باہر جا رہے ہیں۔ بی جے پی کی جھوٹ اور لوٹ کی پالیسی سے سماج کا ہر طبقہ پریشان ہے ۔ کانپور سمیت ریاست کے کئی شہروں کے تاجر اپنے کاروبار بند کر کے دوسری جگہوں پر جا رہے ہیں۔ نئی سرمایہ کاری نہیں آ رہی ہے ۔ جو پرانا تھا وہ بھی باہر جا رہا ہے ۔ اس سے اتر پردیش میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ نوجوان پہلے سے ہی بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو نوکری اور روزگار نہیں دینا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قول و فعل میں بہت فرق ہے ۔ جھوٹ بولنے اور جھوٹے وعدے کرنے میں بی جے پی کا کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ کاشی کو کیوٹو بنا دیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ گورکھپور کو وینس بنادیں گے ۔ اب سونبھدرا کو وہ سوئٹزرلینڈ بنانے کا خواب دکھا رہے ہیں۔ اگر بی جے پی کوئی ترقی نہیں کر سکتی تو وارانسی کو وارانسی، گورکھپورکو گورکھپور اور سون بھدر کو سونبھدر ہی رہنے دے ۔ ان شہروں کے وقار کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ 2027 میں سماج وادی حکومت بنے گی تو ان کی چوطرفہ ترقی کی جائے گی۔