اپوزیشن انڈیا اتحاد نے بی جے پی کی اکثریت ختم کردی، مودی کا پھر وزیراعظم بننا این ڈی اے پارٹنرس تلگودیشم، جنتادل (یو) پر منحصر
3 لوک سبھا الیکشن 2024 ء کا نتیجہ ہندوستانی سیاست میں یاد رکھا جائے گا
3 ووٹروں نے بی جے پی اور حلیفوں کو برتری دی لیکن یہ شکست جیسی ہے
3کانگریس اور انڈیا اتحاد کی نسبتاً کم نشستیں اپوزیشن کی فتح کے مماثل
نئی دہلی 4 جون (سیاست نیوز) نریندر مودی کی وزیراعظم کی حیثیت سے بدترین انتخابی مہم، کھلے طور پر ہندو ۔ مسلم فرقہ پرستی، گھٹیا الفاظ و اصطلاحات کا استعمال، ایودھیا میں رام مندر کی عجلت میں تعمیر… یہ سب کچھ آج لوک سبھا انتخابات 2024 ء کے نتائج میں بے اثر ثابت ہوئے کیوں کہ برسر اقتدار بی جے پی کی عددی طاقت گھٹ کر 240 ہوگئی ہے۔ 2019 ء میں تنہا بی جے پی نے 303 نشستیں جیتے تھے اور این ڈی اے شرکاء کے ساتھ اُن کی عددی طاقت زائداز 350 تھی۔ آج بی جے پی اور مودی کو حکومت تشکیل دینے کے لئے این ڈی اے پارٹنرس پر انحصار کرنا ہے جن میں آندھراپردیش سے تلگودیشم پارٹی اور بہار سے جنتادل (یو) نمایاں ہیں۔ گزشتہ 2 لوک سبھا میعادوں کے مقابل اِس مرتبہ کانگریس نے کافی بہتر مظاہرہ پیش کرتے ہوئے پھر ایک بار تین ہندسی عددی طاقت کی طرف پیشرفت کرلی ہے۔ تادم تحریر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے قطعی نتائج جاری نہیں کئے ہیں۔ 2024 ء کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد انڈیا نے برسر اقتدار بی جے پی کو سخت جدوجہد پر مجبور کیا اور آخرکار اُن کی عدد طاقت گھٹادی۔ سیاسی داؤ پیچ اور تشکیل حکومت کے معاملہ میں بہت سارے امکانات ہوتے ہیں۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو عین ممکن ہے این ڈی اے کو سب سے بڑا اتحاد ہونے کے سبب تشکیل حکومت کے لئے پہلے دعوت دیں گی۔ تلگودیشم کے سربراہ این چندرابابو نائیڈو اور جنتادل (یونائیٹیڈ) کے لیڈر نتیش کمار اگر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہیں تو بی جے پی اور این ڈی اے کے لئے لوک سبھا کے ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا لگ بھگ ناممکن ہوجائے گا۔ اِس طرح بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے نے بظاہر ہیٹ ٹرک درج کرائی ہے لیکن انڈیا اتحاد نے مودی لہر کو ختم کردیا ہے اور آج کا ہندوستانی عوام کا انتخابی نتیجہ ایسا فیصلہ ہے جسے ہندوستانی سیاست میں طویل عرصہ یاد رکھا جائے گا۔ ووٹروں نے بی جے پی اور اُس کے حلیفوں کو برتری ضرور دی لیکن یہ کامیابی ایسی ہے کہ شکست کا احساس ہورہا ہے۔ دوسری جانب عوام نے کانگریس پارٹی کے انڈیا اتحاد کو بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے مقابل ناکام ضرور کیا لیکن اس میں فتح کا احساس ہورہا ہے۔ شاید اِسی لئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہاکہ ہندوستانی عوام نے وزیراعظم مودی، بی جے پی اور برسر اقتدار اتحاد سے آزادی چاہی ہے۔ سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں بی جے پی کو کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے زوردار جھٹکہ لگایا ہے۔ جملہ 80 نشستوں میں سے بی جے پی اور حلیفوں کو اپوزیشن اتحاد نے نصف تک گھٹادیا ہے۔ اِس ریاست میں نہ یوگی آدتیہ ناتھ زیرقیادت بی جے پی حکومت نے اثر دکھایا اور نہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا ووٹروں پر اثر پڑا۔