بی جے پی کا صدر ڈمی ہوگا تو پارٹی اقتدار میں نہیں آئے گی

   

تمام صدور نے گروپ بندی کو فروغ دیا، راجہ سنگھ کا پارٹی قائدین کے خلاف الزام
حیدرآباد ۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے پھر ایک مرتبہ پارٹی قائدین پر تنقید کی اور کہا کہ اگر تلنگانہ بی جے پی کے صدر کا انتخاب تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کرتے ہیں تو وہ ڈمی ثابت ہوگا۔ اگر قومی قیادت کی جانب سے صدر کا انتخاب کیا جاتا ہے تو مستقبل میں بی جے پی تلنگانہ میں برسراقتدار آئے گی۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ سنگھ نے کہا کہ پارٹی کے ابھی تک جتنے بھی صدور بنے ہیں، انہوں نے پارٹی کو مستحکم کرنے کے بجائے پارٹی میں گروپ بندیوں کو فروغ دیا ہے اور راست و بالراست طور پر انہوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کیلئے جیل جانے والوں کو پارٹی نے نظرانداز کردیا ہے۔ ریاست میں تلنگانہ بی جے پی صدر کے انتخاب کیلئے دہلی میں سرگرمیاں جاری ہیں جس کے تناظر میں راجہ سنگھ نے پارٹی قائدین کے خلاف سنسنی خیز الزامات عائد کئے جو بی جے پی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیا بننے والا صدر بھی گروپ بندیوں کو فروغ دیتا ہے تو پارٹی کو ہی نقصان ہوگا۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ بی جے پی میں چند قائدین، ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی آزادی چھین لی گئی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کی یہ صورتحال ہے۔ اگر بی جے پی کے قائدین ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے تو بی جے پی ضرور حکومت تشکیل دے گی۔ ریاست میں بی جے پی کا نیا صدر بننے کے بعد چیف منسٹر سے خفیہ ملاقاتیں نہیں کرنا چاہئے۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ بی جے پی ہندوتوا پارٹی سے دھرم کیلئے کام کرنے والے کارکنوں کی نشاندہی ہونا چاہئے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ میری بات کسی کو پسند آئے یا نہیں آئے اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین اور کارکنوں کے دلوں کی یہی رائے ہے۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ پارٹی کے چند قائدین میرے خلاف میڈیا کو مسیجس دے رہے ہیں۔ اگر مجھ سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ پارٹی کی قومی قیادت سے شکایت کریں۔ 2