افتتاحی تختی پر مقامی بی جے پی کارپوریٹر کا نام نہ ہونے پر احتجاج اور ہنگامہ
حیدرآباد : /7 مئی (سیاست نیوز) چمپاپیٹ پریس کالونی کمیونٹی ہال کی افتتاحی تقریب میں آج اُس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ایک افتتاحی تختی پر مجلسی فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کا نام موجود ہونے اور مقامی بی جے پی کارپو ریٹر کے نام نہ تحریر کرنے پر بی جے پی قائدین نے ہنگامہ آرائی کی ۔ اس واقعہ کے دوران مجلس کے رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ نے 10 مجلسی کارکنوں کے ہمراہ وہاں سے راہ فرار اختیار کرلی ۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں واقع پریس کالونی ملٹی پرپز کمیونٹی ہال کی پہلی منزل کو ایم پی فنڈز سے 51.20 لاکھ روپئے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور جمعرات کو اس کی افتتاحی تقریب تھی ۔ اس موقع پر مجلسی کارکنوں نے کمیونٹی ہال کے قریب افتتاحی تختی کو نصب کیا جس میں رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی ، رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبر اویسی ، رکن اسمبلی یاقوت پورہ جعفر حسین معراج اور رکن کونسل مرزا رحمت بیگ کے نام تحریر تھے ۔ اس افتتاحی تختی کو دیکھ کو آئی ایس سدن ڈیویژن کی خاتون بی جے پی کارپوریٹر شویتا مدھوکر ریڈی اور ان کے حامی برہم ہوگئے اور افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچنے والے ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ سے سوال کیا اور وہ جواب دینے سے قاصر رہے ۔ اس دوران بی جے پی کارپوریٹر اور ان کے حامیوں نے برہمی میں مجلس کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی اور افتتاحی تختی کو توڑ دیا اور مجلس کے فلیکس بیانرس کو نذر آتش کردیا ۔ بی جے پی کارکنوں کی برہمی پر ایم ایل سی رحمت بیگ نے وہاں سے فرار اختیار کرلی ۔ اس بات کا پتہ چلنے پر سرور نگر پولیس کی ایک ٹیم وہاں پہنچ گئی جس پر بی جے پی کارپوریٹر نے الزام عائد کیا کہ افتتاحی تختی پر پروٹوکول کے مطابق عمل نہیں کیا گیا ۔ وہ مقامی کارپوریٹر ہونے کے باوجود افتتاحی تختی پر ان کا نام تحریر نہیں کیا گیا جبکہ مجلس کے چندرائن گٹہ رکن اسمبلی اکبر اویسی کا نام تحریر کیا گیا تھا جبکہ یہ علاقہ اکبر اویسی کے دائرہ کار میں نہیں آتا ۔ پولیس نے برہم بی جے پی کارکنوں کو وہاں سے منتشر کردیا جبکہ مجلس کے ایم ایل سی وہاں سے پہلے ہی فرار ہوگئے تھے ۔ سرور نگر پولیس نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ب y/