بی جے پی کے دوبارہ اقتدار کی صورت میں ملک تباہ ہوجائے گا: ڈی راجا

   

سیکولر اور جمہوری طاقتوں کے اتحاد کی ضرورت، بی جے پی کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ، سی پی آئی کی ریاستی عاملہ سے خطاب
حیدرآباد۔/16 نومبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجا نے کہا کہ اگر 2024 عام انتخابات میں بی جے پی دوبارہ برسر اقتدار آتی ہے تو ملک تباہ ہوجائے گا۔ گجرات کے بشمول ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں بی جے پی قائدین میں خوف کا ماحول ہے۔ گجرات کے انتخابی جلسوں سے امیت شاہ کے خطاب کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ بی جے پی قائدین میں مایوسی اور خوف عیاں ہے۔ سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری کے عہدہ پر انتخاب کے بعد ڈی راجہ پہلی مرتبہ حیدرآباد پہنچے۔ سی پی آئی کی ریاستی عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی راجا نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ برسوں کی مایوس کن کارکردگی کے نتیجہ میں ملک بھر میں عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہماچل پردیش اور گجرات کے نتائج پر اُلجھن پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ اور ناگا لینڈ کے نتائج بھی ملک کی قومی سیاست پر اثر انداز ہوں گے۔ ڈی راجا نے متنبہ کیا کہ اگر بی جے پی پھر ایک مرتبہ برسراقتدار آتی ہے تو ملک تباہ ہوجائے گا۔ نریندر مودی نے کم سے کم حکمرانی اور زیادہ سے زیادہ نظم و نسق کا عوام سے وعدہ کیا تھا لیکن گذشتہ آٹھ برسوں میں ان کی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ملک کو ترقی کی بجائے تباہی کے راستہ پر گامزن کردیا گیا۔ ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور سیکولرازم کے تحفظ کے لئے 2024 میں بی جے پی، آر ایس ایس کو شکست سے دوچار کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی فاشسٹ طاقتوں کے اتحاد کو 2024 میں شکست دینے کیلئے کمیونسٹ، سیکولراور جمہوریت پسند قومی اور علاقائی جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بھی اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی قائدین کو ڈی راجا نے مشورہ دیا کہ وہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں اور پارٹی کے استحکام پر توجہ دیں۔ اجلاس میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ، قومی سکریٹریز ڈاکٹر کے نارائنا، سید عزیز پاشاہ، سکریٹریٹ رکن چاڈا وینکٹ ریڈی اور دیگر قائدین شریک تھے۔ر