مسلمانوں کو بی سی طبقات میں شامل کرنے کیخلاف بی جے پی کی گمراہ کن مہم
’’یہ احسان نہیں حق ہے ‘‘
کانگریس حکومت کا فیصلہ سماجی
انصاف کی راہ میں اہم سنگ میل
بی آر ایس مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے
حیدرآباد۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان نے ریاست میں پسماندہ طبقات (بی سی) کے ریزرویشن کو بڑھاکر 42% کرنے کیلئے حکومت تلنگانہ کے پیش کردہ بل کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ اس معاملے میں بی آر ایس اور بی جے پی ریاست کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ عامر علی خان نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام سماجی انصاف اور مساوی نمائندگی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ کانگریس ایم ایل سی عامر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے ایک جامع اور سائنٹفک ذات پات کا سروے پیش کیا ہے جس میں پسماندہ طبقات کے سماجی اور اقتصادی حالات کا درست اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس اعداد و شمار کی بنیاد پر تعلیم ، ملازمتوں اور سیاست میں میں بی سی طبقات کو 42% تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ نہیںبلکہ ایک تاریخی ناانصافی کی دیرینہ اصلاح ہے۔ کئی دہوں سے بی سی طبقات کو سرکاری ملازمتوں ، تعلیم اور پبلک سیکٹر میں مناسب نمائندگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس حکومت نے ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کی ترقی کے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے۔ کانگریس ایم ایل سی نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ مسلمانوں کو بی سی طبقات میں شامل کرنے سے دیگر بی سی طبقات کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کئی دہائیوں سے مسلمانوں کو قانونی طور پر پسماندہ طبقات کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کیلئے 4% تحفظات BC-E زمرہ میں پہلے ہی سے برقرار ہیں۔ یہ تحفظات ، بی سی طبقات کیلئے الاٹ کئے گئے کوٹہ کو متاثر نہیں کرتے۔ عامر علی خان نے بی جے پی پر مزید الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کررہی ہے اور غلط معلومات پھیلاتے ہوئے بی سی طبقات کے درمیان مصنوعی دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ عامر علی خان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بی جے پی کی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ پسماندہ طبقات کو گمراہ کرتے ہوئے اُن کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی سازش کر تی ہے۔ ان کا ایجنڈہ واضح ہے کہ بی سی طبقات کو اُکسانا، خوف پیدا کرنا اور انہیں اِس بل کی مخالفت کرنے پر مجبور کرنا ہے اور بی جے پی یہ سب اپنے فائدہ کیلئے کررہی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 10 سال حکومت میں رہنے کے باوجود بی آر ایس پارٹی پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود میں پوری طرح ناکام رہی۔ کانگریس لیڈر عامر علی خان نے یاد دلایا کہ 2014ء میں بی آر ایس حکومت نے ایک گھریلو جامع سروے کرایا تھا لیکن اس کی رپورٹ کو آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ اگر بی آر ایس ، بی سی طبقات کی فلاح و بہبود میں سنجیدہ ہوتی تو ان کیلئے 42% تحفظات کیوں متعارف نہیں کروائی۔ آج کانگریس حکومت بی سی طبقات کو 42% تحفظات فراہم کررہی ہے تو بی آر ایس اندیشے میں مبتلا کرکے بی سی طبقات میں بے چینی پیدا کررہی ہے۔ کانگریس حکومت نے وعدہ کے مطابق بی سی طبقات کو 42% ریزرویشن دیئے ہیں۔ کانگریس نے ہمیشہ بی سی طبقات کو ایوانوں میں اور دیگر اداروں میں مناسب نمائندگی دینے اور بااختیار بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ کانگریس نے اپنا انتخابی وعدہ پورا کیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ان کا جائز حصہ بی سی طبقات کو ملے گا۔ یہ کوئی عارضی راحت نہیں ہے بلکہ بی سی طبقات کو بااختیار بنانے کی سمت ایک مستقل قدم ہے۔ عامر علی خان نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ بل کی حمایت کریں اور بی سی طبقات کو گمراہ کرنے والی بی جے پی اور بی آر ایس کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔ کانگریس حکومت کا یہ فیصلہ تلنگانہ میں سماجی انصاف کو فروغ دینے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ 2