بیدر۔ بیدر ایک تاریخی شہر ہے اور اس کی قدامت کی شناخت اس کی تاریخی فصیلوں اور برجوں سے ہوتی ہے۔ یہ فصلیں قلعہ ارک کے ساتھ ساتھ بہمنی سلاطین نے تعمیر کیں۔ اور شہر کو فصیل بند بنادیاگیاتاکہ قلعہ کے ساتھ شہر بھی دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رہے۔ لیکن آج کے جمہوری دور میں تاریخی فصلیں اور تاریخی برج زائد عرصہ تک شاید ہی محفوظ رہ سکیں۔ یہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ قدیم شہر کے ان تمام فصیلوں اور برجوں کاجائزہ لیاجائے تو آپ کو تمام فصیلوں اور برجوں میں درخت اٹھے ہوئے اورلہلہاتے ملیں گے ۔ ان پودوں اور درختوں کوکاٹا نہیں جاتا۔ جس کی وجہ سے ان پودوں کاتنا مضبوط اور اندرتک دھنسا ہواملتاہے۔ تنے کی مضبوطی فصیلوں اور برجوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ منسلکہ تصویر میں دوتصاویر ہیں۔ دونوں ایک جیسی لگتی ہیں جبکہ ایسانہیں ہے۔ ایک تصویر منگل پیٹھ دروازے کی ہے جہاں کے پودے اور درخت محکمہ آثار قدیمہ نے کاٹ دئے ہیں۔ دوسری تصویر فتح دروازہ کی ہے جہاں کے پودے اور درخت نکالنے کاکام ابھی نہیں ہواہے ۔ حالانکہ ایک ہفتہ گذرچکااس کے باوجود فتح دروازے کے پودے نکالے نہیں گئے۔ یہی حال دیگر دروازوں کاہے۔ جبکہ شہر کے اطراف موجود تمام فصیلوں سے پودے اور درخت نکال کر مرکزی حکومت کے زیرانتظام چلنے والے آثار قدیمہ کو شائد 10سال سے زائد کاعرصہ گذراہوگا۔ اگر ان فصیلوں اور برجوں کی دیکھ بھال نہ ہوئی تو یہ ساراقدیم اثاثہ معدوم ہونے دیر نہیں لگے گی ۔