بیروت : لبنان میں دو روز قبل ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اس کے بہت سے اتحادی انتخابات میں شکست کھا گئے ہیں۔ تاہم بیروت کی بندرگاہ مین دو سال قبل ہونے والے دھماکوں میں ملوث دو سیاست دانوں کی کامیابی پر اردنی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔وزارت داخلہ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ کی اتحادی امل تحریک کے دونوں رہ نما علی حسن خلیل اور غازی زعیتر پر بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ دونوں رہ نما جنوبی لبنان میں بعلبک ھرمل اپنی سیٹوں پر کامیاب ہوئے۔ان دونوں افراد پر دسمبر 2020 سے الزام عائد کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کسی غلط کام سے انکار کیا اور ان کی پارلیمانی نشستوں سے انہیں دی گئی استثنیٰ کا حوالہ دیتے ہوئیانہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا تھا۔تحقیقات کے دوران حتمی طور پران کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ تفتیش کے نتائج مخفی رکھے گئے تھے۔ریما الزاہد جن کے بھائی امین اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھینے امل تحریک کے ان دونوں سیاست دانوں کی جیت کو ایک “مذاق” قرار دیا۔