بیگم پیٹ ایرپورٹ سے کمرشیل فلائیٹس دوبارہ شروع ہونے کا امکان

   

نظام کے دورمیں تعمیر کردہ ایرپورٹ فی الحال ایرفورس اسٹیشن کے طور پر کام کررہا ہے
حیدرآباد۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) مرکزی حکومت، بیگم پیٹ ایرپورٹ سے طیاروں کی آمدورفت کا بہت جلد آغاز کرنے والی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کمرشیل فلائیٹس شروع کی جائیں گی۔ 1930ء میں نظام کے دور حکومت میں بیگم پیٹ ایرپورٹ تعمیر کیا گیا تھا جو فی الوقت ایرفورس اسٹیشن کے طور پر کام انجام دے رہا ہے۔ 23 مارچ 2008ء کو شمس آباد میں راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ تعمیر ہونے کے بعد بیگم پیٹ ایرپورٹ سے پروازوں کی خدمات کو معطل کردیا گیا۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ میں 1930ء سے 2008ء تک تقریباً 80 سال تک خدمات انجام دی۔ فی الحال وی وی آئی پی اور خانگی پروازوں کو یہاں اُترنے اور ٹیک آف کرنے کی اجازت ہے۔ صدرجمہوریہ، وزیراعظم اور مرکزی وزراء جب بھی حیدرآباد آتے ہیں تو یہاں سے سفر کرتے ہیں۔ مرکزی شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے اعلان کیا ہے کہ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے کمرشیل فلائیٹس شروع کی جائیں گی۔ امکان ہے کہ بہت جلد بیگم پیٹ ایرپورٹ ، ڈومسٹک فلائیٹس کی خدمات کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ فی الحال ہمیں انٹرنیشنل اور ڈومسٹک فلائیٹس میں سفر کرنا ہو تو شمس آباد ایرپورٹ سے جانا پڑتا ہے۔ وزارتِ شہری ہوا بازی کو امید ہے کہ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے ڈومسٹک پروازوں کا آغاز کرنے پر شمس آباد ایرپورٹ پر بوجھ کم ہوگا۔ حیدرآباد میں گزشتہ 17 سال کے دوران ٹریفک میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی طور پر بیگم پیٹ ہیوی ٹریفک زونس میں سے ایک ہے۔ اگر وہاں سے کمرشیل فلائیٹس سرویس شروع کی جاتی ہے تو ٹریفک کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر نظام آباد ، عادل آباد ، کریم نگر ، ورنگل اور میدک سے شہر میں داخل ہونے والے اسی راستے سے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی آبادی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آبادی میں اضافہ کے معاملے میں حیدرآباد نے دہلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ اس روٹ پر چلنے والی میٹرو ٹرینوں میں بھی زیادہ ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ ایرلائین سرویس دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ٹریفک میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے۔2