بے بنیاد افواہوں سے گوشت کی تجارت پر منفی اثرات

   


لمپی وائرس، انسانوں میں منتقل نہیں ہوتا، عوام تشویش میں مبتلا نہ ہوں، نظام آباد میں جمعیت القریش کی خواہش
نظام آباد۔ 29 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)بڑے جانوروں میں لمپی بیماری نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں بے بنیاد ویڈیو کو وائرل کرتے ہوئے بڑے جانور کی تجارت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ۔ عوام بڑے جانور میں لمپی بیماری سے متعلق افواہوں پر دھیان نہ دیں کیونکہ ڈائریکٹر محکمہ صحت اور محکمہ حیوانات کی جانب سے رپورٹ حاصل کی گئی ہے جس میں لمپی بیماری سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو یہ بیماری جانوروں سے انسان میں منتقل نہیں ہوتی اور جانوروں میں بھی نہ کے برابر ہے اکا دکا جانوروں میں پائی جانے والی بیماری کو بڑھا چڑھاکر پیش کئے جانے کی وجہ سے عوام میں تشویش پھیل رہی ہے عوام محکمہ صحت اور حیوانات کے عہدیداروں سے ربط پیدا کرتے ہوئے تسلی کرسکتے ہیں ۔ تلنگانہ جمعیت القریش کے ذمہ دار محمد منصور چودھری نے اُردو پریس کلب نظام آباد پر میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی انہوں نے کہا کہ بڑے جانوروں میں لمپی وائرس پھیل جانے کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر افواہیں گشت کرنے کی وجہ سے گوشت کی تجارت پر منفی اثرات پڑے ہیں اور عوام نے گوشت کے استعمال کو ترک کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ جمعیت القریش کی جانب سے محکمہ صحت اور محکمہ حیوانات سے رپورٹ حاصل ہونے کے بعد ساری ریاست میں شعور بیداری کی جارہی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ بڑے جانوروں میں مچھر کاٹنے سے اسکین پر پھوڑے ابھر آتے ہیں جس کا گوشت پر کوئی اثر نہیں ہوتا پھر بھی بہت کم جانوروں میں یہ بیماری پائی جاتی ہے لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ افواہ تیزی سے پھیل رہی ہے جس کا قریش برادری کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے محمد منصور چودھری نے افواہ پھیلانے ولے افراد سے خواہش کی کہ وہ اپنی بے بنیاد حرکتوں سے باز آجائیں ۔ انہوں نے لمپی وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر اظہار تشکر کیا ۔ محمد منصور چودھری نے چیف منسٹر چندر شیکھر رائو، وزیر داخلہ محمد محمود علی ، رکن اسمبلی بودھن شکیل عامر ، مجلس کے تمام قائدین سے اظہار تشکر کیا ۔ پریس کانفرنس میں تلنگانہ جمعیت القریش کے عہدیدار محمد بشیر قریشی ، محمد جاوید قریشی ، محمد احمد قریشی کے علاوہ تلنگانہ جمعیت القریش نظام آباد کے اراکین اسلم قریشی ، مبین قریشی ، اسحاق قریشی ، عمران قریشی ، شعیب قریشی ، رضوان قریشی ، احمد قریشی اور ندیم قریشی موجود تھے ۔