ایودھیا، کاشی اور متھرا کے بعد عبادت گاہوں کی طویل فہرست، حصول کیلئے عدالتوں میں درخواست
حیدرآباد۔/22 مئی، ( سیاست نیوز) ملک میں فرقہ پرست طاقتوں نے ایودھیا، کاشی اور متھرا کے بعد تاج محل اور قطب مینار کو نشانہ بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ مسلمانوں کی یادگاریں خاص طور پر عبادت گاہوں پر سنگھ پریوار کی نظریں ہیں لیکن اب تاج محل اور قطب مینار جیسی قومی یادگاروں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایودھیا سے جس مہم کا آغاز ہوا تھا وہ کاشی سے ہوتے ہوئے متھرا پہنچ چکی ہے۔ ہندو تنظیموں نے کاشی اور متھرا کی مساجد کو مندر قرار دیتے ہوئے ان پر اپنی دعویداری پیش کردی اور عدالتوں کے ذریعہ انہیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ ان دونوں مقامات کی مساجد کو آزاد کرانے کے نام پر عدالتوں میں قانونی لڑائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ گیان واپی مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا بعد میں سپریم کورٹ نے ضلع عدالت سے اس معاملہ کو رجوع کردیا۔ اسی طرح متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کو کرشن جنم بھومی قرار دیتے ہوئے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ سنگھ پریوار کے پاس مساجد کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں بتدریج نشانہ بنایا جاسکتا ہے حالانکہ 1991 کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ بی جے پی قائدین نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران تاج محل جیسی تاریخی یادگار کو ہندو مندر قرار دینے کی کوشش کی اور ان کا دعویٰ ہے کہ شاہجہاں نے مندر کی جگہ یادگار قائم کی۔ 2017 میں ونئے کٹیار نے تاج محل کی جگہ پر شیوا مندر کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔ تاریخ داں پی این اوک نے 1989ء میں تحریر کردہ کتاب میں تیجو مہالیہ نامی مندر کا ذکر کیا۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ مؤرخ کا یہ دعویٰ ہے کہ شاہجہاں نے لارڈ شیوا کی مندر کی جگہ پر یادگار کو تعمیر کیا ہے۔ مؤرخ پی این اوک انسٹی ٹیوٹ آف ری رائٹنگ انڈین ہسٹری کے بانی ہیں جو ہندوستانی تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنے کی مہم پر ہے۔ 1976ء میں لکھنؤ کے امام باڑہ کے ہندو مقامات پر تعمیر کئے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کتاب تحریر کی گئی۔ دہلی کے لال قلعہ پر بھی اسی طرح کا دعویٰ ہے۔ مؤرخ نے کئی مذہبی مقامات پر ہندو تعمیرات ہونے کی دعویداری پیش کی ہے۔ قطب مینار کے پاس ہنومان چالیسہ کرتے ہوئے ہندو تنظیموں نے اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دراصل وشنو استھم ہے۔ ملک میں شروع کی گئی یہ مہم کہاں جاکر رُکے گی اس بارے میں کہا نہیں جاسکتا۔ر