شہر کے مصروف بازاروں میں پارکنگ مافیا سرگرم ، پولیس و بلدیہ کی خاموشی معنیٰ خیز
حیدرآباد۔14۔مارچ(سیاست نیوز) حکومت کی پارکنگ کے متعلق جاری کی گئی پالیسی کے مطابق بازاروں اور نمائش و سیل جہاں لگائے گئے ہیں ان مقامات پر پارکنگ کے نام پر کوئی فیس وصول نہیں کی جاسکتی ۔ شاپنگ کامپلکس جہاں دکانات موجود ہیں ان میں فراہم کی جانے والی پارکنگ بھی مکمل طور پر مفت ہونی چاہئے لیکن اس کے باوجود قلب شہر میں واقع تجارتی کامپلکس میں پارک کی جانے والی گاڑیوں کے مالکین سے پارکنگ کی فیس کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے اور جی ایچ ایم سی و پولیس کی جانب سے تمام معلومات رکھتے ہوئے بھی ان شکایات کو نظرانداز کیا جا رہاہے ۔شہر کے مرکزی علاقہ عابڈس چوراہے پر موجودسرکردہ کامپلکس کے احاطہ میں موجو پارکنگ سہولت میں پارکنگ فیس کے نام پر جبری وصولی کی شکایات موصول ہورہی ہیںجبکہ تجارتی کامپلکس میں خریدی کے لئے پہنچنے والوں کو پارکنگ کی سہولت فراہم کرنا کامپلکس انتظامیہ اور کامپلکس میں موجود تاجرین کی ذمہ داری ہے اسی طرح عابڈس کے علاوہ بیگم پیٹ ‘ امیر پیٹ‘ سکندرآباد‘ بشیر باغ کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے شہری علاقو ںمیں جو پارکنگ پالیسی روشناس کروائی گئی اس کے مطابق خریداری کیلئے کسی بھی شاپنگ کامپلکس میں پارکنگ فیس سے زائد کی خریدی کی صورت میں کوئی پارکنگ فیس کی وصولی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔اسی طرح محکمہ ٹریفک پولیس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد میں پارکنگ کے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شہر کے کئی سرکردہ بازاروں اور مصروف علاقوں میں پارکنگ مافیا سرگرم ہوچکا ہے اور من مانی فیس وصول کی جانے لگی ہے۔عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری پارکنگ مافیا کی حوصلہ افزائی نہ کریں بلکہ جس کسی مقام پر پارکنگ کے نام پر پیسے وصول کئے جا رہے ہیں اس کے متعلق پولیس اور جی ایچ ایم سی کو مطلع کیا جائے کیونکہ پارکنگ فیس کی وصولی کو سرکاری طور پر غیر قانونی قراردیا جا چکا ہے اور ایسا کرنے پھر خاموشی اختیار کرنا جرم کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔جی ایچ ایم سی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ شہر میں بعض مقامات پر پارکنگ فیس کی وصولی کے سلسلہ میں شکایات موصول ہورہی ہیںجس پر باضابطہ پولیس میں شکایت درج کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کئی مقامات پر معمولی پارکنگ فیس کے نام پر 10تا20 روپئے وصول کئے جانے لگے ہیں اور اس طرح اگر یومیہ 2000 گاڑیوں کی پارکنگ کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں 20 ہزار سے زائد کی یومیہ آمدنی ہوجاتی ہے جو کہ بغیر کسی حساب کے غیر محسوب آمدنی کا حصہ بنتی جا تی ہے اسی لئے 10یا20روپئے ادا کرنے کے بجائے وصولی کرنے والوں کے خلاف 100نمبر پرشکایت درج کروائیں۔م