ترقی اور فلاح و بہبود میں تلنگانہ ملک کیلئے رول ماڈل: گورنر سوندرا راجن

   

اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، تعلیم کے ذریعہ اقلیتوں کی ترقی ، بجٹ سیشن کا آغاز
حیدرآباد 3 فروری (سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر پی سوندرا راجن نے تلنگانہ کو ملک کے لئے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہاکہ مختلف شعبہ جات میں ترقی کے علاوہ فلاحی اسکیمات پر مؤثر انداز میں عمل آوری کرتے ہوئے تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر نے خطاب کیا۔ بجٹ اجلاس کے پہلے دن گورنر نے اپنے خطاب میں ریاست کی مختلف شعبہ جات میں ترقی کا حوالہ دیا اور کہاکہ کئی ریاستیں تلنگانہ کی اسکیمات کو اختیار کررہی ہیں اور مرکزی حکومت سے تلنگانہ کو کئی ایوارڈس حاصل ہوئے۔ گورنر نے کہاکہ تشکیل تلنگانہ کے وقت 2014-15 ء میں ریاست کی آمدنی 62 ہزار کروڑ تھی جو 2021-22 ء میں بڑھ کر ایک لاکھ 84 ہزار کروڑ ہوچکی ہے۔ ریاست میں فی کس آمدنی 2014-15 ء میں 124104 تھی جو 2022-23 ء میں بڑھ کر 317115 ہوچکی ہے۔ ریاست کے قیام کے بعد سے 2022-23 ء تک معیشت کے مختلف شعبہ جات میں تلنگانہ کی ترقی کے لئے گورنر نے حکومت اور سرکاری ملازمین کی مساعی کو سراہا۔ انھوں نے کہاکہ زرعی شعبہ کو خسارہ سے نکال کر منافع بخش اور خوشحال شعبہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ریاست میں سرمایہ کاری کے لئے موزوں ماحول تیار کرتے ہوئے اور ٹی ایس آئی پاس جیسے اقدامات کے ذریعہ تلنگانہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں 3.21 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا گیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں 140 فیصد تک روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت ترقی کے ساتھ ساتھ بھلائی کی اسکیمات پر توجہ مرکوز کرچکی ہے اور فلاحی اسکیمات کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ گورنر نے رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات کی ستائش کی۔ اُنھوں نے برقی شعبہ کے بحران پر قابو پانے کے لئے حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیا اور کہاکہ تلنگانہ میں برقی پیداوار کی صلاحیت 7778 میگاواٹ سے بڑھ کر 18453 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ ریاست میں فی کس برقی کے استعمال میں 1356 یونٹ سے 2126 یونٹ اضافہ ہوا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کے لئے حکومت کے پلے پرگتی اور پٹنا پرگتی پروگراموں کا گورنر نے حوالہ دیا اور کہاکہ مرکزی حکومت سے اِس شعبہ کی کارکردگی پر 26 ایوارڈس حاصل ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے سرسبزی و شادابی کے لئے ہریتا ہرم پروگرام کی ستائش کی۔ گورنر نے دلت بندھو اسکیم کے علاوہ نئے سکریٹریٹ کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے موسوم کرنے کی ستائش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ مستحق غریب افراد کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے ایک ہزار سے زائد اقامتی اسکولس قائم کئے گئے۔ گورنر نے اقلیتی بہبود کا حوالہ دیا اور کہاکہ دیگر طبقات کے مساوی ترقی کے مواقع فراہم کئے گئے۔ تعلیم کے ذریعہ اقلیتی طبقہ کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے 203 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے اور ملک کی کوئی دوسری ریاست اقلیتوں کے لئے اِس قدر اسکولوں کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ حکومت نے اِن تمام اقامتی اسکولوں کو اقامتی جونیر کالجس میں اپ گریڈ کیا ہے۔ گورنر سوندرا راجن نے مشن بھگیرتا، آسرا پنشن، قبائلی بہبود، بہبودیٔ پسماندہ طبقات، مچھیروں کی
بھلائی، بہبودیٔ بنکرس، بہبودیٔ خواتین کے علاوہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک کے تحت اب تک 12 لاکھ سے زائد غریب لڑکیوں کی شادی میں مدد کی گئی ہے۔ گورنر نے بڑے پیمانہ پر تقررات کی ستائش کی اور کہاکہ حکومت نے 80039 جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کیا ہے۔ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا عمل شروع کیا گیا تاکہ 95 فیصد روزگار مقامی امیدواروں کو حاصل ہوسکے۔ 2014 ء سے فروری 2022 ء تک حکومت نے 141735 جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ 8 سال کی مختصر مدت میں 221774 جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کرتے ہوئے تلنگانہ نے تاریخ رقم کی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے 7289 کروڑ خرچ کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت 26065 سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ تلنگانہ صحت کے شعبہ میں بہتر خدمات کے ذریعہ ملک میں تیسرے مقام پر ہے۔ 20 اضلاع میں تلنگانہ ڈائیگناسٹک سنٹر قائم کئے گئے۔ باقی 13 اضلاع میں عنقریب قیام عمل میں آئے گا۔ ریاست میں 104 ڈائیلاسیس سنٹرس کام کررہے ہیں۔ شہر کے اطراف 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس قائم کئے جارہے ہیں اور نمس میں 2 ہزار بستروں کے اضافے کا منصوبہ ہے۔ ر
ورنگل میں 2 ہزار بستروں کے ساتھ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل قائم کیا جارہا ہے۔ حکومت ہر ضلع میں میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ تاحال 12 میڈیکل کالجس قائم کئے گئے اور 16 اضلاع میں میڈیکل کالجس کی تعداد 17 ہوچکی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال مزید 9 میڈیکل کالجس قائم کئے جائیں گے۔ شہری علاقوں میں غریبوں کو بہتر علاج کی سہولت کے لئے 342 بستی دواخانے قائم کئے گئے۔ عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لئے ریاست میں 9.8 لاکھ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے۔ ر