ترنمول چھوڑ چکے 17 ارکان پارلیمنٹ بی جے پی میں شامل ہونگے

   

این سی پی آئی میں شمولیت محض عارضی انتظام تھا ۔ جگدیش چندر برما بسونیا کا دعوی ۔ دیگر ارکان کا اظہار لا علمی

کولکاتہ 14 ستمبر ( ایجنسیز ) ترنمول کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا میں شامل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت اب بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ باغی ارکان میں شامل رکن جگدیش چندر برما بسونیا نے آج کہا کہ جملہ 17 ارکان پارلیمنٹ بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گی ۔ یہ شمولیت ماہ اکٹوبر میں درگا پوجا سے قبل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں راست طور پر بی جے پی میں شمولیت کا منصوبہ تھا تاہم ابو طاہر اور دیگر دو ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اعتراض کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا تھا اور تمام ارکان نے این سی پی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ این سی پی آئی ایک غیر مسلمہ پارٹی ہے جس نے تریپورہ میں دو اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کیا تھا اور اسے محض چند سو ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ مسٹر بونیا نے اعتراف کیا کہ شمولیت کے وقت تک ان تمام کو این سی پی آئی کے تعلق سے کوئی علم نہیں تھا ۔ اب 17 این سی پی آئی کے ارکان پارلیمنٹ بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ مسٹر بسونیا کوچ بہار حلقہ لوک سبھا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ فیصلہ ہے اور سب کی رائے اُنہیں بھی قبول کرنی ہوگی ۔ ابو طاہر خان ‘ خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان نے تاحال بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے اجلاسوں سے دوری اختیار کی ہوئی ہے حالانکہ وہ این سی پی آئی میں شامل ہوگئے تھے ۔ یہ تینوں مرشد آباد کے مسلم آبادی والے تین لوک سبھا حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ابو طاہر خان نے مسٹر بسونیا کے ریمارکس پر کہا کہ کسی نے بھی انہیں اظہار خیال کا اختیار نہیں دیا ہے ۔ ہم تمام اپنی حکمت عملی پر عمل کرتے ہیں۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہم بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔ این سی پی آئی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی بسونیا کے دعوی کی توثیق یا تردید سے گریز کیا ہے ۔ 17 ارکان میں شامل مسٹر شتابدی رائے نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ مسٹر بسونیا دوسرے قائدین سے مشاورت کے بعد اظہار خیال کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ وہ اس طرح کے کسی بھی فیصلے سے واقف نہیں ہیں ۔ بنکورہ کے رکن پارلیمنٹ اروپ چکراورتی نے بھی کہا کہ وہ بی جے پی میں شمولیت کے کسی بھی فیصلے سے واقف نہیں ہیں ۔ انہیں بھی دوسروں کے فیصلے پر چلنا ہوگا ۔ متالی باگ اور کالی پاڑہ سورین نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ مغربی بنگال بی جے پی کے صدر سامک بھٹاچاریہ نے این سی پی آئی ارکان پارلیمنٹ کی بی جے پی میں شمولیت کا امکان مسترد نہیں کیا ہے اور کہا کہ جو کوئی بی جے پی میں شامل ہونا چاہتا ہے وہ ایسا کرسکتا ہے تاہم انہیں شامل کیا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ اعلی قیادت کرے گی ۔