تروپتی لڈو کی تیاری پر سپریم کورٹ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی

   

ڈائرکٹر سی بی آئی نگرانی کریں گے، سی بی آئی اور آندھراپردیش پولیس کے عہدیداروں کی شمولیت، درخواست گزاروں کے سیاسی مقصد براری سے گریز کا مشورہ
حیدرآباد ۔4۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے تروملا تروپتی دیوستھانم کے لڈو کی تیاری میں ملاوٹ شدہ گھی کے استعمال کی جانچ کے لئے آزادانہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے لڈو کی تیاری میں استعمال کئے جانے والے گھی میں جانوروں کی چربی سے متعلق داخل کی گئی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ آندھراپردیش حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جبکہ درخواست گزاروں نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے وی وشواناتھن نے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ کے لئے آزادانہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم ضروری ہے۔ انہوں نے سی بی آئی ڈائرکٹر کی نگرانی میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان کیا جس میں سی بی آئی اور آندھراپردیش پولیس کے ایک ایک عہدیدار شامل ہوں گے ۔ ایس آئی ٹی میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا (FSSAI) کے سینئر عہدیدار شامل رہیں گے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو سیاسی میدان جنگ میں تبدیل ہونے نہیں دیں گے ۔ ججس نے کہا کہ وہ لڈو کے معاملہ کو سیاسی ڈرامہ کا موضوع بننے نہیں دیں گے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اگر الزامات میں کچھ بھی سچائی ہو تو یہ قابل قبول نہیں ہے۔ تشار مہتا نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا مشورہ دیا جس کی نگرانی مرکزی حکومت کے سینئر عہدیدار کو دی جائے۔ بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن راجیہ سبھا وائی وی سبا ریڈی کے علاوہ دو علحدہ درخواستیں داخل کی گئیں جس میں تحقیقات کی اپیل کی گئی ۔ عدالت نے کہا کہ کروڑہا بھکتوں کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایس آئی ٹی کی تشکیل کے بعد آندھراپردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی تحقیقات ختم ہوجائیں گی۔ پرجا شانتی پارٹی کے صدر کے اے پال نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی ڈائرکٹر کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے وائی وی سبا ریڈی پر برہمی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اس مسئلہ پر ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست سے سپریم کورٹ کو واقف نہیں کرایا۔ آندھراپردیش حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کو تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ عدالت نے کہا کہ وہ عدالت کو سیاسی میدان جنگ میں تبدیل ہونے نہیں دیں گے۔ جسٹس گوائی نے اس معاملہ پر پہلی سماعت میں ریمارک کیا تھا کہ بھگوان کو سیاست سے دور رکھا جائے۔1