برسلز : یورپی کمیشن کے نائب صدر مارگرائٹس سکناس نے ترک زیر انتظام قبرص حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی آمد کو روکے۔ نسلی طور پر منقسم بحیرہ روم کا یہ جزیرہ تارکین وطن کی پسندیدہ ترین منازل میں سے ایک ہے۔ سن 1974ء کے بعد سے قبرص کا ایک حصہ یونان جبکہ دوسرا حصہ ترکی کے زیر انتظام ہے۔ یورپی کمیشن کے نائب صدر کے مطابق اس جزیرے پر نوے فیصد تارکین وطن براستہ ترکی داخل ہوتے ہیں کیوں کہ وہاں ایک ایسا اسٹوڈنٹ ویزہ سسٹم رائج ہے، جس سے آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں منقسم دارالحکومت نکوسیا میں دس ہزار سے زائد افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروا چکے ہیں۔