ترکیہ کا اناج راہداری معاہدہ پر دوبارہ عمل درآمد کرنا قابل ستائش: امریکہ

   

واشنگٹن : امریکہ نے ترکیہ کی جانب سے روس پر بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدہ پر واپس جانے کے لیے دباؤ ڈالنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ایک پریس کانفرنس میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے اگست میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کے دورہ ترکیہ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس دورے کے بارے میں بات نہیں کروں گا، سوائے یہ کہنے کے کہ ہم روس کو بلیک سی گرین انیشیٹو میں دوبارہ شامل ہونے پر مجبور کرنے میں ترکیہ کے کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ملر نے اناج کے اقدام میں ترکیہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ (ترک حکام) وہ شروع سے ہی اس اقدام کے لیے معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے اور روس کو اس پہل کو جاری رکھنے کے لیے قائل کرنے میں بڑا تعمیری کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اناج کے معاہدے کے تسلسل میں اپنیاس تعمیری اور مثبت کردارکو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔صدر رجب طیب اردغان سے گزشتہ ہفتے جب روسی صدرپوتن کے متوقع دورہ ترکیہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ تاریخ ابھی واضح نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، میرے وزیر خارجہ، میرے انٹیلی جنس کے سربراہ، وہ سب مذاکرات کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان مذاکرات کے دائرہ کار میں ہمیں امید ہے ماہ اگست میں ان کا دورہ ہوگا۔