!تعلیمی شعبہ میں تقررات پر گورنر نے روک لگادی

   


چیف منسٹر منوگوڑ میں مصروف ، نوجوانوں میں بے چینی و بے بسی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : پرگتی بھون اور راج بھون میں دوریاں اتنی طویل ہوتے جارہی ہے کہ ریاست میں دستوری بحران پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔ گذشتہ ماہ اسمبلی اور کونسل میں 8 بلز منظور کئے گئے جن میں صرف ایک جی ایس ٹی قانون ترمیمی بل کو قانونی موقف حاصل ہوا ہے ۔ ماباقی 7 بلز راج بھون میں زیر التواء ہیں ۔ ایک ماہ گذر جانے کے باوجود گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے ان بلز کو ابھی تک اپنی منظوری کی مہر نہیں لگائی ہے ۔ جس کی وجہ سے ان پر عمل درآمد میں تاخیر ہورہی ہے ۔ گذشتہ ماہ 13 ستمبر کو قانون ساز اسمبلی و کونسل میں 8 بلز کو منظوری دی گئی تھی جن میں دو نئے اور باقی 6 قانونی ترمیمی بلز تھے ۔ ریاست کی یونیورسٹیز میں تقررات کے لیے مشترکہ بورڈ کا قیام ، سدی پیٹ ضلع کے ملگ میں فاریسٹ کالج کی تبدیلی ، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تلنگانہ فاریسٹ یونیورسٹی میں تبدیلی ، خانگی یونیورسٹیز کو منظوری شامل ہیں ۔ ایوانوں میں ان بلز کی منظوری کے بعد قواعد کے مطابق دوسرے دن انہیں راج بھون بھیج دیا گیا ۔ گورنر ان بلز کا جائزہ لینے کے بعد منظوری دیتی ہے جس کے بعد ہی گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے ۔ پھر وہ قانون بن کر نافذ ہوجاتا ہے ۔ یہ عمل عام طور پر ہفتہ 10 دن میں مکمل ہوجاتا ہے ۔ تاہم گورنر نے جملہ 8 بلز میں صرف ایک جی ایس ٹی قانونی ترمیمی بل کو منظوری دی ہے ۔ جس پر تلنگانہ حکومت نے 10 اکٹوبر کو اس سے متعلق نوٹیفیکیشن کی اجرائی کی اجازت دے دی ہے ۔ مزید 7 بلز کو گورنر کی جانب سے اجازت دینا باقی ہے ۔ راج بھون میں زیر التواء بلز میں اعظم آباد انڈسٹریل ایریا ایکٹ ترمیمی بل ہے چونکہ یہ بل مرکزی حکومت ایکٹ سے منسلک ہے ۔ اس کے لیے صدر جمہوریہ ہند کی منظوری لازمی ہے ۔ ماباقی بلز قانونی شکل اختیار کرنے کے بعد اس پر فوری عمل آوری ہونے کا امکان ہے ۔ ریاستی حکومت نے 80 ہزار جائیدادوں پر تقررات کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے ۔ یونیورسٹیز میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے ’ مشترکہ بھرتی بورڈ ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گورنر کی منظوری کے بعد یونیورسٹیز میں تقررات کا عمل شروع کرنے کی حکومت تیاری کررہی ہے ۔ پرائیوٹ یونیورسٹیز ایکٹ ترمیمی بل کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ میونسپل ایکٹ ترمیمی بل منظور ہونے کی صورت میں کوآپشن ارکان کی تعداد میں اضافہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ تاہم سرکاری ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس عمل میں مزید تاخیر ہوگی کیوں کہ بلز کو ابھی تک گورنر سے منظوری نہیں ملی ہے جس سے پہلے بلز کو منظوری ملنا ہے اور پھر اس کو قانونی شکل دینا ہے ۔۔ ن