تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کا شوروغل، نعرہ بازی اور دھرنا

   

احتجاج کے دوران کارروائی جاری رہی، چیف منسٹر کے خلاف نعرے بازی، ڈھائی گھنٹے تک احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ
سبیتا اندرا ریڈی کے خلاف ریونت ریڈی کے ریمارک کا تنازعہ

حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس ارکان نے شوروغل، نعرہ بازی اور دھرنا منظم کرکے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسپیکر جی پرساد کمار نے بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے دوران ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا اور بی آر ایس رکن سبیتا اندرا ریڈی کو اظہار خیال کا موقع نہیں دیا۔ آج صبح اسمبلی اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی بی آر ایس ارکان سیاہ بیاچس لگائے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی قیادت میں ایوان میں داخل ہوئے۔ وہ سبیتا اندرا ریڈی کو اظہار خیال کیلئے مائیک دینے کی مانگ کررہے تھے کیونکہ بقول اُن کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اُن کے خلاف ریمارکس کئے ہیں ۔ اسپیکر نے وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو کو اسکلس یونیورسٹی بل پیش کرنے کی اجازت دی۔ بی آر ایس ارکان نے احتجاج شروع کردیا اور سریدھر بابو کی تقریر کے دوران نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم تک پہونچ گئے۔ اسپیکر نے سریدھر بابو کی تقریر کے بعد سبیتا اندرا ریڈی کو اظہار خیال کا موقع دینے کا تیقن دیا جس کے بعد بی آر ایس ارکان نشستوں پر واپس ہوگئے۔ سریدھر بابو کی تقریر کے فوری بعد وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کو اظہار خیال کی اجازت دی گئی جس کے بعد بی آر ایس ارکان دوبارہ ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کرنے لگے۔ ہریش راؤ، کے ٹی آر اور پی راجیشور ریڈی نے اسپیکر سے بحث و تکرار کی۔ وینکٹ ریڈی نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس کی پہلی میعاد میں کابینہ میں خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس ارکان کو خواتین کے بارے میں اظہار خیال کا کوئی حق نہیں ہے۔ احتجاجی ارکان نے چیف منسٹر ڈاؤن ڈاؤن کے نعرے لگائے اور اس وقت چیف منسٹر ریونت ریڈی ایوان میں موجود تھے۔ وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے چیف منسٹر کے خلاف نعرے بازی کی مذمت کی اور کہاکہ بی آر ایس ارکان گھٹیا سیاست پر اُتر آئے ہیں۔ احتجاجی ارکان وقفہ وقفہ سے سی ایم ڈاؤن ڈاؤن، چیف منسٹر استعفیٰ دو، تانا شاہی نہیں چلے گی، ہم انصاف چاہتے ہیں، اسپیکر ہمیں انصاف چاہئے جیسے نعرے لگارہے تھے۔ بی آر ایس ارکان نے تالی بجاکر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کی کوشش کی۔ اِس مرحلہ پر مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ بی آر ایس کو اظہار خیال کا موقع دے یا پھر احتجاجی ارکان کو ایوان سے معطل کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کو ہمت ہونی چاہئے کہ اپوزیشن کا سامنا کرے۔ احتجاج کے دوران ایوان کی کارروائی چلانا ٹھیک نہیں ہے۔ جمہوریت میں یہ مناسب نہیں۔ اُنھوں نے اسپیکر کو مشورہ دیا کہ اسمبلی اجلاس کچھ دیر کیلئے ملتوی کریں اور اپنے چیمبر میں اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں کو طلب کرکے تنازعہ کا حل تلاش کریں۔ وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے واضح کیاکہ حکومت کسی بھی رکن کو معطل نہیں کرے گی۔ ہم بی آر ایس ارکان کو رویہ میں تبدیلی کا موقع دینا چاہتے ہیں اور اُنھیں ایوان سے باہر کرنا نہیں چاہتے۔ بی آر ایس ارکان نے ایوان کے وسط میں فرش پر بیٹھ کر احتجاج شروع کیا اور خاتون ارکان کو بھی ایوان کے وسط میں دیکھا گیا۔ احتجاج کے دوران ہی چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے دستوری بنچ کے فیصلہ پر بیان دیا۔ اسپیکر اور حکومت کے سخت گیر موقف کے نتیجہ میں بی آر ایس ارکان کو آخرکار ایوان سے واک آؤٹ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ایوان میں تقریباً ڈھائی گھنٹوں تک احتجاج کے باوجود اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر بی آر ایس کے مرد ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا جبکہ 3 خاتون ارکان سبیتا اندرا ریڈی، سنیتا لکشما ریڈی اور کے لکشمی نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ 1