بڑے بھائی چھوٹے بھائی، بی آر ایس کی نعرے بازی
حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی نے کانگریس کی تائید اور بی آر ایس کی مذمت کرتے ہوئے ایوان کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایوان کے وسط میں بی آر ایس ارکان کے دھرنے کے دوران بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے بی آر ایس ارکان کے رویہ پر سخت تنقید کی۔ اُنھوں نے کہاکہ تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے بجائے بی آر ایس ارکان غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے احتجاج کے نتیجہ میں اپوزیشن ارکان اظہار خیال سے محروم ہیں۔ تصرف بل کے موقع پر بھی بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے نتیجہ میں بی جے پی ارکان کو اظہار خیال کا موقع نہیں ملا۔ اُنھوں نے کہاکہ 10 برس تک تلنگانہ کو معاشی طور پر تباہ کرنے کی ذمہ دار بی آر ایس پارٹی شکست سے سبق لینے کے بجائے ابھی بھی اپنے رویہ پر قائم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ عوام بی آر ایس کے رویہ کا مشاہدہ کررہے ہیں اور وہ مناسب وقت پر سبق سکھائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے احتجاج کے نتیجہ میں ایوان کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے جس کیلئے وہ بی آر ایس کی مذمت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس اور کانگریس کے سیاسی ڈرامے کے نتیجہ میں اپوزیشن ارکان عوامی مسائل پر اظہار خیال سے محروم ہیں۔ مہیشور ریڈی نے کہاکہ دیگر پارٹیوں کو عوامی مسائل پر اظہار خیال سے روکنا ٹھیک نہیں ہے، اگر بی آر ایس کو ایوان میں رہنا پسند نہیں تو وہ واک آؤٹ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی کی جانب سے کانگریس کی تائید کی کسی کو اُمید نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مہیشور ریڈی جس وقت کانگریس کی تائید کررہے تھے، بی آر ایس کے ارکان نے کانگریس اور بی جے پی میں ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرہ لگایا کہ ’’چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی‘‘ ایک ہوگئے۔ جس وقت مہیشور ریڈی کانگریس کی تائید میں کھڑے تھے، بی آر ایس کے ارکان نے بی جے پی کے دوسرے ارکان کی نشستوں تک پہونچ کر مہیشور ریڈی کو روکنے کی ترغیب دی۔ 1