حیدرآباد 25 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے روبرو آج اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب وکلاء نے احتجاج منظم کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ پرانے شہر کے سنتوش نگر علاقہ میں ایڈوکیٹ پر چاقو سے حملہ کے پس منظر میں وکلاء نے اسمبلی کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے وکلاء کے تحفظ سے متعلق قانون پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کو اسمبلی کی منظوری حاصل ہوچکی ہے لیکن وکلاء کا ماننا ہے کہ قانون نافذ نہیں کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں آئے دن وکلاء پر حملوں کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ جلوس کی شکل میں اسمبلی کی طرف بڑھنے والے وکلاء کو پولیس نے روک دیا۔ اِس موقع پر پولیس اور احتجاجی وکلاء کے درمیان دھکم پیل ہوئی جس کے بعد وکلاء کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسمبلی کے باہر احتجاج سے نمٹنے کیلئے پولیس کے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں۔1
اور جگہ جگہ بیاریکٹس لگائے گئے تاکہ احتجاجی اسمبلی کے باب الداخلہ تک پہونچنے نہ پائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈوکیٹ پر حملہ کے واقعہ کے خلاف بطور احتجاج ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن کی اپیل پر وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔1