تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے لیگل شعبہ میں بدعنوانیاں عروج پر

   

بے قاعدگیوں پر قابو پانا کسی کی بس کی بات نہیں ، مقدمات کی مسلسل شکست ، وقف اراضیات تباہی کے دہانے پر
حیدرآباد۔9فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے شعبہ لیگل میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں رہی اور وقف بورڈ کی جانب سے مقدمات میں شکست معمول کی بات بنتی جا رہی ہے اس کے باوجود صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب وقف بورڈ کو بھاری نقصانات کا اندیشہ ہے۔ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بدعنوان عہدیدار جو گھروں سے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے خلاف یا ان افراد کے خلاف جو وقف جائیدادو ںکو منظم طور پر نقصان پہنچارہے ہیں انہیں ہٹانے کی وقف بورڈ میں جرأت باقی نہیں رہی کیونکہ وقف کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے ان افراد کو بعض بدعنوان اراکین بورڈ کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے مقدمات میں شکست کے باوجود وکلاء کی خدمات کو تبدیل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے صدرنشین کی تبدیلی کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ رہا تھا کہ وقف بورڈ کے لیگل شعبہ کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں تبدیلی آئے گی اور متحرک عہدیداروں کے تقررات عمل میں لائے جائیں گے ۔اسی طرح نومنتخبہ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات کی یکسوئی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کا بھی اعلان کیاتھا لیکن وقف بورڈ میں موجود عہدیداروں اور عملہ کی جانب سے گمراہ کن رہنمائی اور بعض اراکین وقف بورڈ کی بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں اور وکلاء سے ساز باز کے سبب حالات میں سدھار کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہونے لگا ہے۔ وقف بورڈ کے شعبہ لیگل میں موجود عہدیداروں اور وکلاء کے درمیان ساز باز کے سبب تلنگانہ ہائی کورٹ اور وقف ٹریبونل میں مقدمات کی جو صورتحال ہے اس سے خود عدالتی عہدیدار نالاں ہیں۔ وقف ٹریبونل میں غیر ذمہ دارانہ پیروی کے علاوہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک دن میں کئی مقدمات کی مخصوص وکیل کو حوالگی کے سلسلہ میں استفسار پر وقف بورڈ میں کوئی جوابدہ نہیں ہے اور نہ ہی بورڈ کے اراکین اس سلسلہ میں اپنی کوشش کرپا رہے ہیں۔ریاستی وقف بورڈ میں موجود بدعنوان ملازمین کو لیگل اور اس سے متعلقہ شعبہ جات میں اہم ذمہ داریوں پر فائز کئے جانے کے سبب جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ان میں فوری طور پر سدھار لانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وقف بورڈ تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاستی حکومت نے وقف بورڈمیں بہتری لانے کے سلسلہ میں اقدامات کا تیقن دیا تھا لیکن بورڈ میں شامل اراکین کی خاموشی اور نظر انداز کئے جانے رویہ کے سبب بدعنوان عہدیدار و ملازمین کی چاندی ہونے لگی ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری مقدمات کے متعلق نامناسب پیروی کی شکایات عام ہوتی جا رہی تھیں کہ اب وقف ٹریبونل میںبھی منظم انداز میں مقدمات میں عدم پیروی کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے بعض مقدمات بالخصوص کوہ امام ضامن کے مقدمہ میں وقف بورڈ کے وکیل کی عدم پیروی کی بنیاد پر فیصلہ قابض کے حق میں دیا تھا لیکن ہنگامہ آرائی اور سیاست میں کوہ امام ضامن کی فائل موجود نہ ہونے کی خبر کے بعد شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران کوہ امام ضامن کی جائیداد پر قبضہ کی شکایت پر عدالت سے رجوع ہونے پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ وقف بورڈ کی جانب سے کافی مدت سے مقدمہ میں پیروی نہیں کی گئی تھی اسی طرح کئی مقدمات کے دستاویزات جو وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں وہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل قابضین کے پاس پہنچنے لگے ہیں جو کہ مقدمات میں ان کی کامیابی کا سبب بن رہے ہیں ۔وقف بورڈ کے لیگل شعبہ میں سدھار لانے کے لئے فوری طور پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ناگزیر ہیں لیکن اس کے باوجود بورڈ کی جانب سے اس مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے حالانکہ بیشتر اراکین بورڈ بشمول صدرنشین لیگل شعبہ کے حالات کو بہتربنانے میں سنجیدہ ہیں۔م