تلنگانہ بی جے پی کی کارکردگی سے پارٹی کی قومی قیادت مایوس

   

زمینی سطح پر بی جے پی کا کمزور موقف، پارٹی قائدین کے درمیان تال میل کا فقدان، سینئر قائدین پارٹی سرگرمیوں سے دور

حیدرآباد 14 جنوری (سیاست نیوز) بی جے پی کی قومی قیادت تلنگانہ میں بی جے پی قائدین کی کارکردگی، زمینی سطح پر کمزور موقف، قائدین کے درمیان اختلافات سے فکرمند ہے۔ پارٹی کو صرف تشہیر تک محدود رکھنے کے بجائے دیہی علاقوں میں مضبوط کرنے کی پارٹی قائدین کو ہدایت دے رہی ہے۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے پارٹی کی مقامی سطح کی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہاں تک کہ ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ میں اتحاد کا فقدان دیکھا جارہا ہے۔ حالیہ بوتھ کمیٹیوں کے اجلاس میں پارٹی قیادت کی توقعات پر کھرا نہ اُترنے سے پارٹی قیادت مایوس ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ بی جے پی یونٹ تجربہ کار قائدین اور پارٹی میں نئے شامل ہونے والے قائدین کے گروپس میں منقسم ہوگئی ہے جس کا بی جے پی قومی قیادت نے سخت نوٹ لیا ہے۔ بی جے پی قائدین اسمبلی حلقوں میں عوام کے درمیان پہونچنے میں ناکام ہورہے ہیں اور یہ بات بی جے پی قومی قیادت کو پریشان کررہی ہے۔ بی جے پی کے اعلیٰ قائدین نے توقع کی تھی کہ 7 جنوری کو بوتھ کمیٹی کے اجلاس میں ورچول پلیٹ فارم کے ذریعہ تقریباً 2 لاکھ تا 3.5 لاکھ پارٹی کارکنوں سے رجوع ہونے کا منصوبہ تیار کیا تھا جس سے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا خطاب کرنے والے تھے۔ تاہم اس پروگرام میں ریاست بھر سے بمشکل 25 ہزار کارکن ورچول پروگرام میں شریک تھے جس کی اطلاع کے بعد جے پی نڈا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب کے پروگرام سے دستبرداری اختیار کرلی جبکہ تلنگانہ بی جے پی قائدین تیکنیکی مسائل کا بہانہ بنارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی قیادت پارٹی کے ایسے قائدین سے رابطہ میں ہے جنھوں نے اپنے آپ کو پارٹی سرگرمیوں سے دور رکھا ہے اور تلنگانہ بی جے پی پارٹی ہیڈکوارٹر میں قدم رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی قیادت کو اس بات کی جانکاری ملی ہے کہ زمینی سطح پر بی جے پی کو مستحکم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر پارٹی کے سینئر قائدین، منڈل، اسمبلی اور ضلع سطح کے پروگرامس میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ تلنگانہ سے مایوس کن رپورٹ وصول ہونے کے بعد مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کو تلنگانہ پر نظر رکھنے کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کے بعد وہ دو روزہ دورے پر 28 جنوری کو حیدرآباد پہونچ رہے ہیں اور 29 جنوری کو بھی پارٹی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی کا ایجنڈہ تیار کریں گے۔ ن