ٹی آر ایس کے بانی قائدین عہدوں سے محروم، تحریک کے دوران اپنی جائیدادوں اور اراضیات کو فروخت کردیا تھا، چیف منسٹر برے وقت کے ساتھیوں سے انجان
حیدرآباد۔/4ڈسمبر، ( سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں اہم عہدوں کی امید کے ساتھ اپنی جائیدادیں اور اراضیات کو قربان کرنے والے ٹی آر ایس کے قائدین آج بھی کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہ کرسکے اور ان قائدین کو تلنگانہ تحریک کی قربانیوں پر فخر نہیں بلکہ افسوس اور پچھتاوا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ حکومت کے وعدوں کی عدم تکمیل سے متعلق رپورٹس کی اشاعت کے دوران ٹی آر ایس کے بعض قائدین جن کا شمار پارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے انہوں نے شکایت کی کہ عوام سے ناانصافی کا تو تذکرہ کیا جارہا ہے لیکن اخبارات تلنگانہ کیلئے قربانی دینے والوں کے بارے میں خاموش ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام سے کئی اقلیتی قائدین جن کا تعلق اضلاع اور حیدرآباد سے ہے تحریک میں سرگرم رہے۔ یہ وہ قائدین ہیں جو تحریک کے دوران کے سی آر کے بااعتماد رفقاء میں شمار کئے جاتے تھے اور کے سی آر سے ملاقات کیلئے انہیں اپواینٹمنٹ لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ تحریک کے دوران ان قائدین سے وعدہ کیا تھا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد انہیں اہم سرکاری عہدوں پر فائز کیا جائے گا اور اس وعدہ پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جائیدادوں اور اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے تحریک کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اسی زمرہ میں شامل ایک قائد نے بتایا کہ انہوں نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں موجود اپنی قیمتی اراضیات کو معمولی قیمت پر فروخت کرتے ہوئے تحریک چلانے میں خرچ کیا لیکن آج تک انہیں صلہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج مضافاتی علاقوں میں اراضیات کی قیمت فی ایکر کئی کروڑ ہوچکی ہے جبکہ انہوں نے چند لاکھ روپیوں میں اپنی زمینات کو تلنگانہ کے نام پر پھونک دیا تھا۔ اور بھی بعض قائدین ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جائیدادوں کو فروخت کرتے ہوئے بھاری رقم تلنگانہ تحریک پر خرچ کی۔ تحریک کی ابتداء میں ٹی آر ایس کو سرمایہ کی کافی ضرورت تھی اور اس وقت کوئی بھی ڈونیشن دینے کیلئے تیار نہیں تھا کیونکہ تحریک کی کامیابی کا کسی کو یقین نہیں تھا۔ پارٹی کے برے وقت میں قربانیاں دینے والے قائدین کو 2014 میں حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی نظرانداز کردیاگیا اور چیف منسٹر کا ان کے ساتھ رویہ ایک انجان شخص کی طرح ہوچکا ہے۔ کسی تقریب یا پروگرام میں سامنا ہوجائے تو چیف منسٹر قریب بلاکر دلاسہ دیتے ہیں کہ بہت جلد آپ کو کوئی عہدہ دوں گا۔ لیکن وہاں سے گذرنے کے بعد یہ وعدہ فراموش کردیا جاتا ہے۔ پارٹی کیلئے اپنی اراضیات اور جائیدادوں کی قربانی دینے والے قائدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں جن افراد کو ایم ایل سی نشست اور صدورنشین کے عہدے دیئے گئے ان میں سے ایک بھی پارٹی کے قیام کے ساتھی نہیں ہیں۔ بعد میں آنے والے افراد دولت اور سیاسی اثر و رسوخ و سفارشات کی بنیاد پر عہدے حاصل کرچکے ہیں اور حقیقی کارکن آج تک محروم ہیں۔ ٹی آر ایس کے ایک بانی قائد نے اپنی محرومی اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے وہ مشہور شعر کہا جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ جب بھی پارٹی کو ضرورت پڑی سب سے پہلے ہم نے اپنے تن من دھن کی قربانی دی لیکن آج جب اقتدار حاصل ہوچکا ہے تو ہم سے کہا جاتا ہے کہ یہ چمن ہمارا ہے، تمہارا نہیں۔ پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے افراد سے چیف منسٹر بخوبی واقف ہیں لیکن پتہ نہیں کس سیاسی مجبوری کے تحت انہوں نے اپنے برے وقت کے ساتھیوں کو فراموش کردیا ہے۔ دراصل دولت مند قائدین حکومت کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے اور اپنی دولت کی بنیاد پر عہدوں کو حاصل کرلیا۔ بانی قائدین کی شکایت ہے کہ دیگر پارٹیوں سے تاخیر سے آنے والے قائدین آج عہدوں پر فائز ہیں جبکہ قربانیاں دینے والے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کررہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی انہیں قربانی کا صلہ ضرور ملے گا۔ر