کئی برسوں سے اسکام جاری، سکریٹری اقلیتی بہبود کی سرپرستی، ورک آرڈر کے بغیر رقومات کی اجرائی
حیدرآباد ۔6۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے اقلیتی اداروں کو حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی کی شکایت ہے لیکن حکومت جو بھی فنڈس جاری کر رہی ہے ، اس کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اسکیمات کے بجائے مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی میں گزشتہ کئی برسوں سے عازمین حج کے لئے تربیتی کیمپس کا انعقاد عمل میں آرہا ہے اور عازمین کی تربیت کے بہانے ہزاروں روپئے کا خرد برد کرتے ہوئے چند مخصوص افراد اس کمیٹی کے فنڈس کا استعمال کر رہے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی منظوری کے علاوہ حج کمیٹی آف انڈیا عازمین کی تعداد کے اعتبار سے سرویس چارجس ادا کرتا ہے۔ اس رقم کے استعمال کے بارے میں کوئی آڈٹ نہیں ہے اور بعض بیرونی افراد کی ملی بھگت سے تربیتی کیمپس میں ہزاروں روپئے کے بلز جاری کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تمام سرگرمیوں کو سکریٹری اقلیتی بہبود کی سرپرستی حاصل ہے اور بلز کے ذریعہ ہزاروں روپئے کی رقم حاصل کرنے والے افراد کا رویہ ایسا ہے جیسے کہ انہیں اقلیتی اداروں کی رقومات حاصل کرنے کیلئے پیٹنٹ رائیٹ دے دیا گیا ہو۔ قواعد کے مطابق کسی بھی ادارہ کو چاہے وہ اقلیتی ادارہ کیوں نہ ہو کسی بھی کام کے سلسلہ میں ورک آرڈر جاری کرنا ہوتا ہے جس کی پروسیڈنگ باقاعدہ طور پر جاری کی جاتی ہے۔ ورک آرڈر جس کمپنی کے نام پر جاری ہو ، وہ کام کی تکمیل کے بعد ادارہ میں بلز داخل کرتا ہے جس کی بنیاد پر رقومات جاری کی جاتی ہیں۔ تلنگانہ حج کمیٹی کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے فرضی اداروں کے نام پر بلز داخل کرتے ہوئے ہزاروں روپئے وصول کئے جارہے ہیں اور اگر کوئی عہدیدار بلز کی اجرائی سے انکار کرے تو اس پر سکریٹری اقلیتی بہبود کے ذریعہ دباؤ بنایا جاتا ہے اور باقاعدہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اے سی گارڈ اور مانصاحب ٹینک کے ایک ہی ایڈریس پر کئی فرضی ادارے کام کر رہے ہیں جن کے حج کمیٹی میں داخل کردہ بلز کسی کرانہ شاپ کے بل کی طرح ہوتے ہیں لیکن عہدیدار ہزاروں روپئے کی رقم جاری کر رہے ہیں۔ جاریہ سال تلنگانہ حج کمیٹی کے تربیتی کیمپس کے دوران کسی تحریری آرڈر کے بغیر 28,000 روپئے پہلے حج تربیتی کیمپس کی تصاویر پر مبنی دو البمس کی تیاری کے نام پر حاصل کئے گئے۔ ایک البم ریاستی وزیر اظہرالدین کو پیش کیا گیا جبکہ دوسرا آفس ریکارڈ کے طور پر رکھنے کا بل میں ذکر کیا گیا ہے۔ حج تربیتی کیمپ اور مدینہ سانحہ کے متاثرین کو چیف منسٹر کی جانب سے امدادی چیکس کی تقسیم کی تصاویر کے نام پر 28,000 روپئے حاصل کئے گئے۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں 3 اپریل کو منعقدہ ٹریننگ کیمپ میں ایچ ڈی ایل ای ڈی اسکریننگ ، ویڈیو کوریج ، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کے نام پر جملہ 61800 روپئے کا بل داخل کرتے ہوئے رقم حاصل کی گئی۔ حج امبارکیشن 2026 کے انتظامات کے تصویری البم کے نام پر 19100 روپئے کا بل حاصل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسجد ٹیک نامپلی میں حج تربیتی کیمپ کے اخراجات کے طور پر بازار گھاٹ کے ایک فلاور مرچنٹ کے بل پر 18950 روپئے حاصل کئے گئے۔ اسی فلاور مرچنٹ کے بل پر گزشتہ سال 19500 روپئے حاصل کئے گئے تھے۔ عام طور پر مساجد میں کمیٹیوں کی جانب سے اپنے خرچ پر تربیتی کیمپ کا انعقاد عمل میں آتا ہے لیکن تلنگانہ حج کمیٹی کے اسٹاف سے ملی بھگت کے نتیجہ میں ہزاروں روپئے حاصل کئے جارہے ہیں۔ ان تمام بلز کی کاپیاں سیاست کے پاس موجود ہیں اور اس بارے میں حج کمیٹی کے حکام سے ربط قائم کیا گیا تو کسی نے بھی ورک آرڈر کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔ اگر حج کمیٹی کی رقومات کا اس طرح بیجا استعمال کیا جائے تو پھر حکومت سے بجٹ کی عدم اجرائی کی شکایت کرنا فضول ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں گزشتہ کئی برسوں سے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں اور ان تمام کو خوش کرتے ہوئے مخصوص افراد بجٹ کو لوٹ رہے ہیں۔